لندن، دہشت گردوں کا چوراہا: امریکی اخبار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخباروں نے لندن کے بم حملوں پر تبصرے کرتے ہوئے بار بار یہ بات دہرائی ہے کہ ’لندن آئندہ کے دہشت گردوں کا چوراہا بن چکا ہے جہاں مسلمان شہری آزادیوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کھلے عام جہاد کی تلقین کرتے ہیں‘۔ ’لندن وہ شہر ہے جس میں بمبار آزادی کے ساتھ گھومتے پھرتے ہیں، پولیس ایسا نہیں کرسکتی‘۔ کھلی ہوئی سرحدیں، ملک کے اندر شاختی کاغذات کا نہ ہونا، قوانین جو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جرم کے ثبوت کے لیے ٹھوس شواہد پیش کرنا ضروری ہے، اور مسلمان باشندوں کو دی جانے والی مراعات کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ امریکی اخباروں نے اس کھلے ہوئے شہر کو ’لندنستان‘ کا نام دے دیا ہے۔ لندن کے اخبار سنڈے ٹائمز کے مطابق ایک برطانوی سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ القاعدہ کے ہزاروں ہمدردوں کو اپنی پناہ میں لیے ہوئے ہے۔ القاعدہ کے لۓ بھرتی کرنےوالے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں خاص طور سے انجینئروں اور آئی ٹی ڈگری لینے والوں کو راغب کرتے ہیں۔ اس طرح تقریباً سولہ لاکھ مسلمانوں کی آبادی میں ایک فیصد کے قریب یعنی سولہ ہزار دہشت گرد یا ان کے حامی پیدا ہوچکے ہیں۔ ان میں طرح طرح کے ملکوں، علاقوں اور نسلوں کے مسلمان ہیں۔ وہ غیر ملکی بھی جو شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے حالیہ برسوں میں آکر آباد ہوئے ہیں اور دوسری اور تیسری نسل کے پاکستانی اور کشمیری بھی۔ لندن کے پولیس کے محکمے یعنی میٹروپولیٹن پولیس کے سابق سربراہ لارڈ سٹیونس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کم سے کم تین ہزار ایسے نوجوان جو برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے افغانستان میں اسامہ بن لادن کے سابق تربیتی کیمپوں سے ہوکر آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے گزشتہ پانچ سال کے دوران کم سے کم آٹھ حملوں کو ناکام بنایا تھا۔(ڈرڈ سٹیونس اسی سال پولیس سے ریٹائر ہوئے ہیں)۔ اس دوران میں حکومت آپریشن کنٹیسٹ کے نام سے ایک حکمت عملی پر کام کررہی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے ’دل اور دماغ‘ کو جیتنا ہے۔ اسی حکمت عملی کے مطابق وہ قانون پارلیمنٹ میں زیر بحث ہے جس میں مذہبی تفریق کو جرم قرار دے دیا جائے گا۔ اس مسودۂ قانون کی بہت سخت مخالفت ہو رہی ہے اگرچہ پیر کی رات پارلیمنٹ میں بہتر ارکان کی اکثریت نے اسے قبول کرلیا ہے۔ تاہم اندیشہ یہ ہے کہ ایوان بالا یعنی دار الامراء میں اس کی منظوری میں مشکلات پیش آئیں گی۔ اس کے علاوہ آپریشن کنٹیسٹ پر غور کرنے والے افسروں کا اسی ہفتے ایک اجلاس ہونے والا ہے جس میں توقع کی جارہی ہے حالیہ بم حملوں کے پس منظر میں اس حکمت عملی پر گہری نظر ثانی کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||