BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 July, 2005, 20:45 GMT 01:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چوتھے حملہ آور کے نام کا بھی اعلان
حملہ آور
سی سی ٹی وی سے لی جانے والی خود کش حملہ آوروں کی تصویر
لندن پولیس نے جمئیکا کے پیدائشی جرمینی لنڈسے کی چوتھے خودکش حملہ آور کے طور پر تصدیق کر دی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی ا ب تک کی تحقیق کے مطابق بکنگھم سائر کا رہائشی نے ہی کنگس کراس پر خود کش حملہ کیا تھا۔

اس سے پہلے پولیس نے ایل حملہ اور کی نیم حسیب احسن بتایا تھا اور اس کے بارے میں جاری کی جانے والی تفصیلات کے مطابق اس کی عمر 18 سال تھی۔

حسیب حسین کے خاندان نے لندن بم حملوں میں لوگوں کے مارے جانے والوں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل کھڑی میں وہ اپنے بیٹے سے محروم ہو گئے ہیں۔

حسیب حسین
ایک حملہ آور حسین حسین

خاندان نے کہا کہ ان کو حسیب حسین کی سرگرمیاں کا علم نہیں تھا اور اگر ان کو معلوم ہوتا تو وہ ضرور اس کو روکنے کے کوشش کرتے ۔

حسیب حسین کے خاندان نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس سے تعاون کریں اور اگر ان کے پاس اس سانحے کے بارے میں کوئی معلومات ہے تو وہ پولیس کو فراہم کریں تاکہ واقعے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

شہزاد تنویر
بریڈ فورڈ کے شہزاد تنویر

شہزاد تنویر : بریڈ فورڈ میں پیدا ہونے والے بائیس سالہ شہزاد تنویر نے اپنی زیادہ زندگی لیڈز کے علاقے بیسٹن میں گذرائی۔

شہزاد تنویر نے لیڈز میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے سپورٹس سائنس کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کو جاننے والے کہتے ہیں کہ شہزاد تنویر کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کا شوقین تھا۔

ایک سال پہلے شہزاد تنویر کو پولیس نے نامناسب رویہ کی شکایت پر گرفتار کیا تھا لیکن وارننگ دے کر چھوڑ دیا تھا۔

شہزاد تنویر کا باپ ایک فاسٹ فوڈ ’ فش اینڈ چپس‘ کا مالک ہے۔

خان
محمد صدیق جو پیشے کے اعتبار سے ایک استاد تھے اوت انتہائی مقبول بھی تھے
محمد صدیق خان: تیس سالہ محمد صدیق ابھی تک شناخت کیے جانے والے خود کش حملہ آوروں میں سب سے زیادہ عمر کا ہے۔ صدیق خان لیڈز سے چند میل دور ڈیوز بری کا رہائشی تھا جہاں وہ پانچ مہینے پہلے منتقل ہوا تھا وہ اس سے پہلے بیسٹون میں رہتا تھا۔

صدیق خان شادی شدہ اور آٹھ ماہ کی بچی کا باپ تھا۔ اس کے پڑوسیوں کا کہنا کہ صدیق خان معذور افراد کے ادارے کے ساتھ کام کرتا تھا جبکہ اس کی بیوی محکمہ تعلیم میں کام کرتی ہے۔

صدیق خان کے ایک پڑوسی نے بتایا کہ انہوں نے صدیق خان اور اس کی بیوی کو چند روز پہلے دیکھا تھا اور وہ ان کو ایک پرسکون جوڑے کے طور پر جانتے تھے۔

صدیق خان کے ایک اور پڑوسی نے بتایا کہ ان کو نہیں پتہ تھا کہ صدیق خان ایک مذہبی ذہن رکھنے والا شخص تھا کیونکہ اس نے کبھی بھی صدیق خان کو کسی مسجد میں نہیں دیکھا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد