حملہ آور کون تھے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن بم دھماکوں میں ملوث مشتبہ حملہ آور کون تھے اور وہ اس واقعے سے پہلے کیسے زندگی گزار رہے تھے۔ شہزاد تنویر بریڈ فورڈ میں پیدا ہونے والے بائیس سالہ شہزاد تنویر نے اپنی زیادہ زندگی لیڈز کے علاقے بیسٹن میں گزاری۔ شہزاد تنویر نے لیڈز میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے سپورٹس سائنس کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کو جاننے والے کہتے ہیں کہ شہزاد تنویر کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کا شوقین تھا۔ ایک سال پہلے شہزاد تنویر کو پولیس نے نامناسب رویہ کی شکایت پر گرفتار کیا تھا لیکن وارننگ دے کر چھوڑ دیا تھا۔ شہزاد تنویر کا باپ ایک فاسٹ فوڈ ’ فش اینڈ چپس‘ کا مالک ہے۔
شہزاد دسمبر دو ہزار چار میں پاکستان میں مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گیا تھا جہاں وہ دو مہینے تک رہا تھا۔ شہزاد تنویر کے چچا کا خیال ہے کہ اسی دورے کے دوران اس کی ملاقات انتہا پسندوں سے ہوئی جنہوں نے اس ملک میں خود کشوں حملوں کی ترغیب دی جہاں وہ پیدا ہوا اور پرورش پائی۔ ’یہ (شہزاد) کا نہیں بلکہ اُس کے پیچھے کارفرما طاقتوں کا کام ہے۔‘ شہزاد تنویر کے چچا بشیر احمد نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ شہزاد تنویر ایک خاموش طبع انسان تھا اور اس نے سیاسی خیالات کا اظہار کبھی بھی نہیں کیا تھا۔ پینسٹھ سالہ بشیر احمد نے بتایا کہ وہ چوالیس سال پہلے (1961) میں برطانیہ آئے اور اب اس واقعے کے بعد انہوں نے وہ سب کچھ کھو دیا جس کے لیے انہوں نے اتنی محنت کی۔ ان کے خیال کہ ان کا اب اس ملک میں رہنا شاید ممکن نہیں ہو گا۔ شہزاد تنویر کے پڑوسیوں اور جاننے والوں کا کہنا ہے کہ شہزاد تنویر ایک اچھا لڑکا تھا۔ حسیب میر حسین اٹھارہ سالہ حسیب حسین شہزاد تنویر کا اچھا دوست سمجھا جاتا تھا اور لندن میں بم دھماکے کرنے والوں میں سب سے کم عمر تھا۔
حسیب حسین شہزاد تنویر کی طرح برطانیہ میں ہی پیدا ہوا اور یہیں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔حسیب حسین کو جاننے والے کہتے ہیں کہ وہ دو سال پہلے تک ایک بدتمیز لڑکا تصویر کیا جاتا تھا اور اس کے والدین اس کو ڈسپلن کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔ حسیب کو جولائی 2003 میں سکول سے بھی تعلیم مکمل کیے بنا نکال دیا گیا تھا۔ جس کے بعد وہ اپنے رشتہ داروں کے پاس پاکستان چلا گیا اور اسی دوران اس نے حج کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔ دو سال پہلے جب وہ اچانک مذہب کی طرف راغب ہو گیا اور اس کے والدین نے سوچا کہ شاید ان دعائیں رنگ لائی ہیں۔ مذہب کی جانب اتنی رغبت کے باوجود حسیب کو 2004 میں چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ حسیب حسین کے پڑوسی اسے ایک اچھے لڑکے کے طور پر جانتے ہیں ۔ حسیب حسین نے اپنی تمام زندگی لیڈز میں واقع ہوبیک کے علاقے کولنسو ماؤنٹ پر گزاری۔ دھماکے کے روز حسیب نے اپنے والدین کو بتایا کہ وہ لندن میں دوستوں سے ملنے کے لیے جا رہا ہے لیکن جب وہ واپس گھر نہ پہنچا تو اس کے والدین نے پولیس کو رپورٹ کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حسیب حسین نے بس نمبر تیس پر سوار ہو کر ٹیوسٹاک میں ڈبل ڈیکر بس کو اڑا دیا جس میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس کو دھماکے سے اڑائی جانے والی بس کے ملبے سے حسیب حسین کا ڈرائیونگ لائسنس اور کریڈٹ کارڈ ملے۔ محمد صدیق خان تیس سالہ محمد صدیق شناخت کیے جانے والے خود کش حملہ آوروں میں سب سے زیادہ عمر کا ہے۔ صدیق خان لیڈز سے چند میل دور ڈیوز بری کا رہائشی تھا جہاں وہ پانچ مہینے پہلے منتقل ہوا تھا وہ اس سے پہلے بیسٹون میں رہتا تھا۔
صدیق خان شادی شدہ اور آٹھ ماہ کی بچی کا باپ تھا۔ اس کے پڑوسیوں کا کہنا کہ صدیق خان 2002 سے لیڈز کے ہل سائیڈ پرائمری سکول میں کام کرتا تھا جبکہ اس کی بیوی حسینہ خان محکمہ تعلیم میں کام کرتی ہے۔ اس سکول میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے بی بی سی کو بتایا کہ’ وہ ایک اچھا آدمی تھا اور اکثر خاموش رہتا تھا‘۔ ایک والد کا کہنا تھا’ جب میں نےاپنی بیٹی کو یہ بات بتائی تو اس کہنا تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا‘۔ صدیق خان کے ایک پڑوسی نے بتایا کہ انہوں نے صدیق خان اور اس کی بیوی کو چند روز پہلے دیکھا تھا اور وہ ان کو ایک پرسکون جوڑے کے طور پر جانتے تھے۔ صدیق خان کے ایک اور پڑوسی نے بتایا کہ ان کو نہیں پتہ تھا کہ صدیق خان ایک مذہبی ذہن رکھنے والا شخص تھا کیونکہ اس نے کبھی بھی صدیق خان کو کسی مسجد میں نہیں دیکھا تھا۔ لنڈسے جرمین پولیس کا کہنا ہے کہ چوتھا خودکش حملہ آور ایلزبری سے تعلق رکھنے والا جمیکن نژاد برطانوی لنڈسے جرمین ہے۔ جرمین ایلزبری کے ناردرن روڈ پر اس گھر میں رہتا تھا جہاں پولیس نے بدھ کی رات چھاپہ مارا۔ جرمین کے ماضی کے متعلق زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی تصدیق ڈی این اے تجزیے کے بعد ہی ہوگی۔ جرمین رسل سکوائر پر ہونے والے دھماکے کا ذمہ دار تھا۔ اس دھماکے میں اکیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||