’خود کش حملہ آور شہید نہیں ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے بائیس ممتاز علماء نے کہا کہ اسلام میں خود کش حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے اور حملہ آوروں کو ہرگز شہید نہ سمجھا جائے۔ برطانیہ کے بائیس ممتاز علماء دین نے لندن کے بم حملوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ان امور کی جانب فوری توجہ دی جائے جن کی وجہ سے مسلمان نوجوان انتہا پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ یہ بیان لیسٹر کی جامع مسجد کے امام مولانا شاہد رضا نے پڑھ کر سنایا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ لندن کے بم دھماکوں کا، جن میں چون افراد ہلاک ہوئے ہیں، اسلام میں کوئی جواز نہیں ہے اور ان حملہ آوروں کو ہرگز شہید نہ سمجھا جائے۔ بیان میں یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ بے روزگاری، اقتصادی پس ماندگی، نسل پرستی اور اسلام سے نفرت کے سد باب کے لیے اقدام کیے جائیں جن کی وجہ سے نوجوان برطانوی مسلمان غصے میں آتے ہیں اور نتائج کی پروا کیے بغیر اقدام کر بیٹھتے ہیں۔ برطانیہ کی مسلم کونسل کے لیڈروں نے جمعہ کو لیڈز کا دورہ کیا۔ مسلم کونسل نے کہا کہ کسی معصوم کی زندگی لینے کا کوئی جواز نہیں ہے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جس ایک معصوم کا پوری انسانیت کا قتل تصور کیا جاتا ہے۔ دریں اثنا لندن کے حملوں میں ہلاک ہونے والی شہرہ اسلام کو دفنا دیا گیا ہے۔ بیس سالہ شہرہ اسلام کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی لندن کی پروردہ تھی اور دیندار مسلمان بھی۔ شہرہ اسلام بس نمبر تیس پر سوار تھی جس کو اٹھارہ سالہ خود کش بمبار حسیب میر حسین نے ٹیوسٹاک میں تباہ کر دیا تھا۔ مشرقی لندن کے علاقے پلیزٹو کی رہنے والی شہرہ اسلام کے خاندان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’ ہماری خوبصورت بیٹی غلط وقت پر غلط جگہ‘ پر ہونے کی وجہ سے ہم سے جدا ہو گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||