مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 |  تنویر اور حسیب نے پاکستان میں تین ماہ قیام کیا تھا |
پاکستان کے امیگریشن حکام نے پیر کو اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ لندن بم دھماکوں کے چار میں سے تین مبینہ ملزم شہزاد تنویر،محمد صدیق خان اور حسیب حسین گزشتہ برس پاکستان آئے تھے۔ پاکستان میں ان کی مصرفیات کے بارے میں ابھی معلومات نہیں ہیں۔ ان اطلاعات کی بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ شہزاد تنویر لاہور اور فیصل آباد گئے تھے۔ تنویر کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک مدرسے میں گئے تھے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے حکام کے مطابق ان افراد کی تصاویر پاکستان آنے پر کراچی ہوائی اڈے پر پائسز کمپیوٹر کے ذریعے لی گئی تھیں۔ کمپیوٹر کے ریکارڈ کے مطابق شہزاد تنویر اور صدیق خان دونوں ترک فضائی کمپنی کی پرواز ٹی کے 1056 سے انیسں نومبر دو ہزار چار کو کراچی پہنچے تھے اور تقریباً تین ماہ قیام کے بعد وہ آٹھ فروری دو ہزار پانچ کو ترک فضائی کمپنی کی پرواز ٹی کے 1057 کے ذریعے کراچی سے لندن واپس چلے گئے تھے۔
 |  تنویر بھی کراچی گئے تھے |
حسیب حسین سعودی عرب کے شہر ریاض سے گزشتہ برس پندرہ جولائی کو کراچی آئے تھے۔ تاہم ان کے جانے کے بارے میں کراچی ہوائی اڈے پر کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور خیال یہی ہے کہ وہ اسلام آباد یا لاہور سے لندن واپس گئے تھے۔ |