BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 July, 2005, 01:41 GMT 06:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حسیب حسین ایسا تو نہ تھا‘
حسیب حسین
لوٹن سٹیشن پر حسیب حسین رکسیک اٹھائے جا رہے ہیں
خود کش بمبار حسیب حسین کے خاندان نے اپنے بیٹے کے بم حملوں میں ملوث ہونے پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔

حسیب میر حسین کے خاندان نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اٹھارہ سال کے اس لڑکے کے ہاتھوں ایسے قدم پر سخت تعجب کا اظہار کیا ۔

خاندان کے مطابق حسیب میر حسین ایک’ نارمل اور پیارا نوجوان تھا جس نے خاندان کو کبھی پریشان نہیں کیا‘۔

خاندان نے کہا کہ اس واقعے نے ان کو تباہ کر دیا ہے اور وہ ابھی تک اس سانحے کو سھمجنے کو کوشش کر رہے ہیں۔

حسیب حسین کے خاندان نے لندن بم حملوں میں لوگوں کے مارے جانے والوں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل کھڑی میں وہ اپنے بیٹے سے محروم ہو گئے ہیں۔

خاندان نے کہا کہ ان کو حسیب حسین کی سرگرمیاں کا علم نہیں تھا اور اگر ان کو معلوم ہوتا تو وہ ضرور اس کو روکنے کے کوشش کرتے ۔

حسیب حسین کے خاندان نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس سے تعاون کریں اور اگر ان کے پاس اس سانحے کے بارے میں کوئی معلومات ہے تو وہ پولیس کو فراہم کریں تاکہ واقعے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

پولیس
پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات وسیع ہو سکتی ہیں

66حملہ آور کون تھے
لندن بم دھماکوں میں ملوث کون اور کیا تھے۔
لیڈز سے کنگز کراس
لندن دھماکوں کی تفتیش سے کیا سامنے آیا
66دہشت کی نفسیات
جنگیں انسانی ذہنوں میں شروع ہوتی ہیں۔
66دھماکوں کا خمیازہ
لیڈز کے بمبار اور ایشائیوں کی پریشانیاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد