 |  لوٹن سٹیشن پر حسیب حسین رکسیک اٹھائے جا رہے ہیں |
خود کش بمبار حسیب حسین کے خاندان نے اپنے بیٹے کے بم حملوں میں ملوث ہونے پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔ حسیب میر حسین کے خاندان نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اٹھارہ سال کے اس لڑکے کے ہاتھوں ایسے قدم پر سخت تعجب کا اظہار کیا ۔ خاندان کے مطابق حسیب میر حسین ایک’ نارمل اور پیارا نوجوان تھا جس نے خاندان کو کبھی پریشان نہیں کیا‘۔ خاندان نے کہا کہ اس واقعے نے ان کو تباہ کر دیا ہے اور وہ ابھی تک اس سانحے کو سھمجنے کو کوشش کر رہے ہیں۔ حسیب حسین کے خاندان نے لندن بم حملوں میں لوگوں کے مارے جانے والوں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل کھڑی میں وہ اپنے بیٹے سے محروم ہو گئے ہیں۔ خاندان نے کہا کہ ان کو حسیب حسین کی سرگرمیاں کا علم نہیں تھا اور اگر ان کو معلوم ہوتا تو وہ ضرور اس کو روکنے کے کوشش کرتے ۔ حسیب حسین کے خاندان نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس سے تعاون کریں اور اگر ان کے پاس اس سانحے کے بارے میں کوئی معلومات ہے تو وہ پولیس کو فراہم کریں تاکہ واقعے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔  |  پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات وسیع ہو سکتی ہیں |
|