کریک ڈاؤن: 200 سے زیادہ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام نے کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ملک بھر سے دو سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ملک بھر میں کئی جریدوں کے دفاتر سیل کر دیے گئے ہیں جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی منافرت پھیلا رہے تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنماؤں نے ایک اعلان میں ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کی اپیل کی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں مذہبی تنظیموں کے دو سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو انسداد دہشتگردی کے قانون اور پبلیکیشن آرڈیننس کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق کالعدم مذہبی تنظیموں سے ہے جو ان کے مطابق پابندی کے باوجود ابھی بھی کام کر رہے تھے۔ تاہم وفاقی وزیر داخلہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان گرفتاریوں کا تعلق لندن بم دھماکوں سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کریک ڈاؤن پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور اس کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق کراچی، اسلام آباد،ڈیرہ غازی خان، لاہور،پاکپتن،خوشاب اور فیصل آباد سے کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابوق صوبہ پنجاب سے اسی افراد، صوبہ سرحد سے پچاس افراد اور سندھ اور بلوچستان سے بالترتیب چالیس اور پینتیس افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف جمعرات کو ٹی وی پر قوم سے خطاب کریں گے جس میں حکام کے مطابق وہ ان مذہبی کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کریں گے۔ اسلام آباد میں رات گئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک ٹیم نے لال مسجد پر چھاپہ مارا اور سات افراد کو حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر پولیس اور لال مسجد سے ملحقہ مدرسے کے طلبا میں تصادم بھی ہوا اور پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔
اسلام آباد کے علاقے کراچی کمپنی کی ایک مسجد کے امام اور جی نائن فور مسجد کے ایک امام کی گرفتاری کے لئے بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ راولپنڈی میں بھی جیش محمد تنظیم کے تحت چلنے والے ایک میگزین کے دفتر پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے اور اس دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے۔ صوبہ سندھ میں کریک ڈاؤن میں پولیس نے خیرپور سے ملت اسلامیہ کے سرپرست اعلیٰ علامہ علی شیر حیدری کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ کراچی میں پولیس نے جماعت اسلامی بن قاسم ٹاؤن کے امیر کمال احمد فاروقی کو گرفتار کیا ہے۔ ادھر کراچی کے ٹاؤن پولیس آفیسر صدر ثناء اللہ کے مطابق تین جریدوں ’ضرب مومن‘ ،’وجود‘ اور ’فرائیڈے سپیشل‘ کے دفاتر بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔ حیدرآباد میں پولیس نے تلسی داس روڈ پر واقع مدرسہ اطفال پر کارروائی کر کے تلاشی لی اور وہاں پر موجود ایک شخص ہمت اللہ بگھیو کو گرفتار کرلیا ہے۔ اور مدرسے کو سیل کردیا گیا ہے۔ خیرپور شہر سے جعفریہ الائنس کے رہنما سید منور شاہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ صوبہ سرحد کی پولیس کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ آج سے صوبے میں ان تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔ یہ کارروائی صدر جنرل پرویز مشرف کے اس حکم کے بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا حکم دیا تھا۔ابھی تک حکام اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ ان گرفتاریوں کا تعلق کسی طور بھی لندن بم دھماکوں کی تفتیش سے ہے مگر وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کارروائی لندن بم دھماکوں کے تناظر میں ہو رہی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں پچاس مشتبہ افراد کو دو روز میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ گرفتار افراد کا تعلق کالعدم تنظیموں سے بتایا گیا ہے جبکہ نیم فوجی دستوں کو مختلف مقامات پر تعینات کرنے کے لیے چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری یعقوب نے کہا ہے کہ ان مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو کالعدم تنظیموں کے نمائندے ہیں یا ماضی میں رہے ہیں تاہم اس بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں اور اگر کوئی اس میں ملوث نہ پایا گیا اسے رہا کر دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ہے کہ ان گرفتاریوں کا تعلق لندن بم دھماکوں سے نہیں ہے بلکہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی نکے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی بنیاد پر وفاقی حکومت کے احکامات پر کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ نیم فوجی دستے یا فرنٹیئر کور مرکزی حکومت کی فورس ہے اور ضرورت پڑنے پر طلب کیا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں کوئٹہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سلمان سید نے کہا ہے کہ ایف سی کی پندرہ پلاٹون کو چوکس رہنے کے لیے کہا گیا ہے اور اسے کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کے مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے اور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ لاہور کی پولیس کے ترجمان اطہر نے ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے کہ لاہور پولیس نے لندن بم دھماکوں کے سلسلے میں ایک اہم شخص کو گرفتار کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ اسود ہارون رشید نامی ایک شخص کو لندن بم دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں کے بارے میں لاہور پولیس کے سربراہ طارق سلیم کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق لندن بم دھماکوں میں ملوث مبینہ خود کش حملہ آوروں سے ہے یا نہیں۔
پیر کو ایف آئی اے حکام نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ لندن بم دھماکوں میں ملوث چار میں سے تین افراد گذشتہ برس پاکستان آیے تھے۔ پاکستان کے کچھ اخبارات کے مطابق برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کی ایک ٹیم بھی پاکستانی خفیہ اداروں کے ساتھ اس مہم میں پکڑے جانے والے افراد سے تفتیش کر رہی ہے مگر ابھی تک ایسا کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ لندن بم دھماکوں میں ملوث افراد کا پاکستان میں کسی مذہبی تنظیم سے رابطہ تھا۔ ماضی میں بھی ملک میں ایسے کئی کریک ڈاؤن کئے گئے ہیں جو وقتی طور پر تو موثر ثابت ہوتے ہیں مگر کچھ عرصے بعد کالعدم تنظیمیں نئے ناموں سے دوبارہ سرگرم ہو جاتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||