دہشت گردی: ایک اور مہم کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے ہم نے دنیا بھر میں جہاد کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔‘ ہو سکتا ہے پاکستان سے باہر کئی لوگ بارہ جنوری 2002 کو ادا کیے گئے صدر مشرف کے ان الفاظ کی صحیح اہمیت کو نہ سمجھ پائے ہوں۔ لیکن یہ صدر پاکستان کی طرف سے دیا جانے والے پہلا اعترافی بیان تھا کہ ربع صدی پر محیط پاکستان کی جہادی پالیسی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر پاکستانیوں کے خیال میں یہ وہ نقطہ تھا کہ آخرکار پاکستان کشمیر اور افغانستان میں اپنی خارجہ پالیسی کے ایجنڈے کی تکمیل میں اسلامی شدت پسندوں کے استعمال پر مبنی اپنی انتہائی متنازعہ پالیسی کو ترک کرنے والا ہے۔ کئی لوگوں نے یہ تک سوچ لیا تھا کہ پاکستان کی قومی زندگی میں ایک نیا سورج طلوع ہو رہا ہے جہاں کٹڑ نظریات کے بجائے عملی سوچ اور عقلیت پسندی کا دور دورہ ہو گا۔ اس بات کو تین سال سے زائد عرصہ گزر چکا اور لیکن پاکستان کی قومی زندگی کا پہلو ابھی تک اس سنہری دور سے خالی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پہلے اعلان جنگ کے بعد کے تین سالہ عرصے میں صدر مشرف پر دو جبکہ وزیر اعظم شوکت عزیز اور کراچی کے سابق کور کمانڈر احسن سلیم حیات پر ایک ایک قاتلانہ حملے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں مسجدوں پر چھ بڑے بم حملے ہوئے ہیں جن میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لاتعداد چھوٹے موٹے بم حملے اس کے علاوہ ہیں۔ پاکستانی حکام کے لیے اس سے بڑھ کر تشویش ناک بات شدت پسند عناصر کی صوبہ سرحد میں افغانستان بارڈر کے نزدیک بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ہیں۔ شدت پسندوں کی یہ سرگرمیاں پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنی ہیں۔ افغانستان پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ یہ ایک بار پھر ابھرتے ہوئے طالبان جنگجوؤں کو پناہ گاہ فراہم کر رہا ہے۔
سینیئر سکیورٹی حکام سے ہونے والی بات چیت اور انٹرویوز سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ 11/9 کے حملوں کے بعد پاکستان نے ’انتہا پسندی کے مسئلے‘ کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ سب سے پہلے عرب اور غیرملکی شدت پسندوں کا زمرہ ہے جس سے متعلق پاکستان نے سخت ترین حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا واضح ترین ثبوت حال ہی میں ابوفراج اللبی اور اس سے پہلے بڑی تعداد میں عرب شدت پسندوں کی گرفتاری ہے۔ حکام کے مطابق وزیرستان کے قبائلی علاقے میں ہونے والی فوجی کارروائی کا سب سے بڑا مقصد عرب اور وسطِ ایشیا کے ملکوں سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں اور ان کے مقامی حامیوں کا صفایا تھا۔ اس فوجی کارروائی میں پانچ سو سے زائد فوجیوں کی ہلاکت ہوئی۔ دوسری کیٹیگری ان مقامی شدت پسند تنظیموں کی ہے جنہیں ماضی میں پاکستانی حکومتیں جہاد کشمیر کے نام پر مالی و انتظامی سہولتیں مہیا کرتی رہی ہیں۔ ان میں وہ شدت پسند تنظیمیں بھی شامل ہیں جن پر ملک کی اعلیٰ قیادت پر قاتلانہ حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا۔
یہ سچ ہے کہ برطانیہ نژاد احمد عمر سعید شیخ جیل میں ہیں لیکن ان کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف حکومتی مہم کا حصہ نہیں بلکہ انہیں وال سٹریٹ کے رپورٹر ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمہ میں جیل بھیجا گیا ہے۔ تاہم ’جہاد کشمیر‘ میں سرگرم عمل رہنے والے زیادہ تر شدت پسندوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ پاکستان کے تین بڑی شدت پسند تنظیموں لشکر طیبہ، جیشِ محمد اور حرکت المجاہدین کے رہنما آج تک آزادی سے گھوم رہے ہیں اور اپنے جنگجوؤں سے مکمل طور پر رابطے میں ہیں۔ ’پاکستان اور ہندوستان کے مابین اعتماد کا اس قدر فقدان ہے کہ چاہے دونوں ملک امن کی خواہش کے جتنے ہی دعوے کریں لیکن فریقین میں جاری امن کوششوں کی کامیابی پر یقین نہ ہونے کے برابر ہے۔‘
تیسری کیٹیگری ان پاکستان اور افغان شدت پسندوں کی ہے جو افغانستان میں حامد کرزئی کی حکومت اور امریکی فوج کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ بظاہر پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں میں اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ کرزئی حکومت جلد یا بدیر ناکامی کا شکار ہوگی۔ سلامتی کے امور سے متعلق پاکستان مبصرین کو یقین ہے کہ اس صورت میں ملک کو افراتفری سے بچانے کے لیے امریکہ ’معتدل طالبان‘ قیادت سے رجوع کرے گا۔ پاکستان کو یقین ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مہم میں طالبان اور ان کے حامیوں کو رعایت دے کر افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بحال کر سکتا ہے۔ اس پالیسی کی خوبیوں اور خامیوں کے قطع نظر مشکل یہ ہے کہ ان تینوں کیٹیگریز کے درمیان حدفاضل صرف کاغذ پر ہی ممکن ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ لشکر طیبہ کو چھوڑ کر باقی تمام شدت پسند تنظیمیں سالوں تک اانسانی وسائل آپس میں بانٹتے رہے ہیں۔ ’یہ بتانا ناممکن ہے کہ کل تک کشمیر میں سرگرم عمل رہنے والے کون کون سے شدت پسند القاعدہ نظریات کے اثر میں ہیں۔‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف اپنی تازہ مہم میں اپنی پالیسی میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے یا نہیں۔ بصورت دیگر سرکاری حکام اُسی طرح کے اقدام کریں گے جو صدر مشرف کی بارہ جنوری 2002 کے تقریر کے فوری بعد کیے گئے تھے اور جو مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||