شہزاد تنویر کی تربیت کی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعتہ الدعوۃ پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ لندن دھماکوں کے مبینہ خود کش بمبار شہزاد تنویر نے لاہور کے نواح میں ان کے مرکز مرید کے میں تربیت حاصل نہیں کی ہے انہوں نے اس بار ے میں بعض برطانوی اخبارات کی خبروں کو غلط اور جھوٹا پراپیگنڈہ قرار دیا ہے۔ جماعت الدعوۃ کے مرکز سے جاری ہونے والے ایک بیان میں جماعت کے مرکزی سکریٹری اطلاعات محمد یحیٰ مجاہد نے کہا کہ یہ رپورٹیں غلط ہیں کہ’لندن بم دھماکوں کے ایک خود کش حملہ آور نے مرکز طیبہ میں عسکری تربیت حاصل کی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’مرکز طیبہ مرید کے میں کسی قسم کا کوئی تربیتی کیمپ نہیں ہے‘۔ ان کے بقول یہ ایک خالصتاً رہائشی اور تعلیمی پراجیکٹ ہے جہاں ایک ’الدعوۃ سائنس کالج ‘ہے، طلبہ طالبات کے لیے الگ الگ ہائی سکول اور ایک دینی مدرسہ قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر سائنسز اور دیگر جدید علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک کثیر الاشاعت برطانوی اخبار ’دی مرر‘ کا حوالہ دیکر کہا کہ اس اخبار کی یہ خبر بھی غلط ہے کہ ’مریدکے میں اسامہ بن لادن کا گھر تھا اور مبینہ خود کش بمبار شہزاد تنویر نے اس گھر میں تربیت حاصل کی‘۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کا مرکز طیبہ میں گھر تو دور کی بات ہے وہ کبھی یہاں آئے ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا کوئی خفیہ ایجنڈا ہے نہ ان کی تنظیم ممنوعہ ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی دفتر یا مرکز خفیہ نہیں اور کسی کو وہاں آنے جانے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعتہ الدعوۃ ایک فلاحی، رفاعی اور دینی سیاسی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کے خلاف غلط خبریں شائع کرنے والے برطانوی اخبارت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید پہلے کالعدم لشکر طیبہ کے امیر ہوا کرتے تھے لیکن چند سال قبل لشکر طیبہ کو کالعدم قرار دیا گیا تو حافظ محمد سیعد نے اس تنظیم کو چھوڑ کر جماعتہ الدعوۃ کے نام سے ایک نئی تنظیم بنا لی تھی۔ جماعتہ الدعوۃ کو حکومت پاکستان نے واچ لسٹ پر رکھا ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||