BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 July, 2005, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشتگردی،ملک گیرمہم کا اعلان

News image
کسی بھی شدت پسند تنظیم کے ارکان کو عطیات کی وصولی اور اجتماعات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک سے دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک گیر مہم چلانے کا حکم دیا ہے۔

اس مہم کے تحت ملک میں کالعدم اسلامی شدت پسند تنظیموں کے اجتماعات پر پابندی، اسلحے کی نمائش پر پابندی، منافرت پھیلانے والے لٹریچر کی ضبطی اور شدت پسند تنظیموں کی طرف سے عطیات کی وصولی کو روکا جائے گا۔

صدر نے یہ ہدایات آج روالپنڈی میں ایک اعلی سطحی اجلاس کے بعد دیں جس میں ملک بھر سے اعلی پولیس افسران،وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور فوجی اور سول خفیہ اداروں کے سربراہان بھی شامل تھے۔

یہ حکم ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب لندن بم دھماکوں کے کم از کم ایک ملزم کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ وہ گذشتہ برس پاکستان آیا تھا اور لاہور، فیصل آباد اور مریدکے کے مدارس میں ٹھہرا تھا۔

صدر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان سے کہا ’ آپ لوگ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مذہبی منافرت پھیلانے والے پمفلٹ، کتابچے، سی ڈیز،سی ڈی رائٹرز اور ان کو چھاپنے اور تقسیم کرنے والے افراد کو قانون کی دسترس میں لایا جائے اور یہ کام اس برس دسمبر تک مکمل ہو جانا چاہیے‘۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ملک میں شدت پسندی اور دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی اور حکومت طاقت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس کے خاتمے کے لیے کام کرے گی۔

صدر نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسی بھی شدت پسند تنظیم کے ارکان کو عطیات کی وصولی اور اجتماعات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے ساتھ سختی سے نبٹا جائے گا۔

صدر کا کہنا تھا کہ کسی کو عوامی مقامات پر ہتھیار لہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر نے کہا کہ وہ خود اس مہم کی نگرانی کریں گے اور اس سلسلے میں عوام سے بھی فیڈ بیک لی جائے گی اور اسی کی روشنی میں اس مہم کے نتائج کو جانچا جائے گا۔

صدر نے کہا کہ ’یہ مہم کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس انتہا پسند اقلیت کے خلاف ہے جس نے پاکستان کے مفاد اور اسلام کے نام کو بدنام کیا ہے‘۔

صدر مشرف کا کہنا تھا کہ کسی کو اس بات میں شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اس کی بنیاد نظریاتی ہے اور اس کو ایک جدید اور اعتدال پسند ملک کے طور پر آگے بڑھنا ہے۔

صدر نے کہا کہ پاکستانی معاشرے سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کر کے معاشرے کو نئے سرے سے ڈھالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گذشتہ چند سالوں میں سات سو سے زائد دہشت گرد گرفتار کیے ہیں۔

اس موقع پر وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ پاکستان کے چار سو سے زائد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف مہم میں اپنی جانیں قربان کی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد