کچھ مدرسوں سے پریشانی ہے: برطانیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو پاکستان کے کچھ مدرسوں سے پریشانی ہے۔ جیک سٹرا نے کہا برطانیہ کی طرح پاکستان بھی کچھ مدرسوں کی سرگرمیوں سے پریشان ہے اور ان کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لندن دھماکوں کے ایک مشتبہ مسلمان حملہ آور شہزاد تنویر کے چچا نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا بھتیجا کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں مدرسے سے قرآن کی تعلیم حاصل کرنے گیا تھا۔ جیک سٹرا نے کہا پاکستان دہشت گردی کو ختم کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ جیک سٹرا نے کہا کہ پاکستان میں مدرسوں مذہبی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ جیک سٹرا نے لندن بم دھماکوں کا سراغ لگانے میں پاکستان حکومت سے رابطوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ پاکستانی نژاد برطانوی درالعوام کے ممبر محمد سرور نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ مدرسے میں طالبعلم کو کھانے، رہائش کے علاوہ مذہبی تعلیم مہیا کرتے ہیں اور اسی لیے غریب والدین اپنے بچوں کو ان مدرسوں میں تعلیم کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ محمد سرور نے کہا کہ ان مدرسوں کے نصاب کو بہتر کرنے اور ان کو سرکاری نگرانی میں لانے کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||