BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2003, 17:21 GMT 22:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدارس کے خلاف قانون پر احتجاج

مذہبی طلباء
کسی مدرسے کے حکومتی ایجوکیشن بورڈ سے تعلق جوڑنے یا امداد قبول کرنے پر اسکے مدارس کے بورڈ سے اخراج کا اعلان کیا گیا ہے

پیر کے روز لاہور میں پانچ مختلف دینی فرقوں کے مدرسوں کی مشترکہ تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان سے مشاورت کے بغیر یکطرفہ طور پر مدارس پر کوئی نیا قانون نافذ کیا تو وہ مزاحمتی تحریک چلائیں گے۔

ملک بھر کے بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث ، شیعہ اور جماعت اسلامی کے مدارس کے الگ الگ بورڈز کی مشترکہ تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کا ایک اجلاس پیر کے روز لاہور میں بریلوی مدرسہ جامعہ نعیمیہ میں منعقد ہوا جس کی صدارت مولوی سلیم اللہ خان نے کی۔

اجلاس کے بعد اتحاد تنظیمات مدارس نے اعلان کیا کہ حکومت دینی مدرسوں کی ریگولیشن اور رجسٹریشن کا قانون یکطرفہ طور پر نافذ کرنے کی تیاریاں کررہی ہے اور دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے نام سے ان کے نظام میں مداخلت اور کنٹرول کی راہ ہموار کرنے کی خفیہ منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ستمبر کے وسط میں وفاقی وزیرتعلیم زبیدہ جلال نے کہا تھا کہ ایک ماہ میں مدارس کے نمائندوں کا اجلاس بلایا جاۓ گا جس سے اس معاملہ پر باہمی مشاورت کی جاۓ گی تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔

اتحاد تنظیمات مدارس نے اعلان کیا کہ حکومت یکطرفہ فیصلہ نافذ کرنے کے بجاۓ مشاورت سے معاملات چلاۓ ورنہ مدارس کچھ دیر بعد مزاحمت کی تحریک شروع کردیں گے اور ملک بھر میں اس بارے میں کنوینشن منعقد کیے جائیں گے۔

اتحاد تنظیمات مدارس نے اعلان کیا کہ اگر اس کے فیصلہ کے خلاف کسی مدرسہ نے حکومت کے بناۓ ہوۓ تعلیمی بورڈ سے تعلق جوڑا یا امداد قبول کی تو اس کو مدارس کے بورڈ سے خارج کردیا جاۓ گا۔

یاد رہے کہ امریکی حکومت نے پاکستان کے مدارس کو جدید بنانے کے لیے بارہ ارب روپے کی امداد منظور کی ہے جس کے تحت مدرسوں کو ایک بار فرنیچر اور لائبریری قائم کرکے دی جاۓ گی اور ان کو جدید علوم ریاضی، سائنس، انگلش اور کمپیوٹر کی تعلیم کے کے لیے اساتذہ فراہم کئے جائیں گے جن کی تنخواہ حکومت دے گی۔

پیر کے اجلاس میں مولانا عبدالمالک، مولانا سرفراز نعیمی، مولان صدیق ہزاروی، مولانا میاں نعیم الرحمن، مولانا یسین ظفر، مولانا حنیف جالندھری، مولانا سید ریاض حسین نجفی، مولانا محمد عباس نقوی، مولانا سید قطب، مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبدالحنان زاہد اور مولانا نصرت شاہانی شامل تھے۔

اس سال چار دسمبر کو صدر جنرل پرویز مشرف نے علماء اور مشائخ کے اسی رکنی وفد سے ملاقات میں کہا تھا کہ حکومت دینی مدرسوں کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے لیکن ساتھ ہی کہا تھا کہ حکومت ان کے کام میں مداخلت نہیں کرے گی۔

جنرل مشرف نے علماء سے خطاب کرتے ہوۓ کہا تھا کہ وہ عالمی سطح پر دینی مدارس کے بڑے حامی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ مدارس سب سے بڑی این جی اوز (غیر سرکاری ادارے) ہیں جو اسی لاکھ بچوں کو مفت تعلیم ، رہائش اور خوراک مہیا کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ کچھ مدرسے فرقہ واریت پھیلانے، اسلحہ کی نمائش اور مناسب دستاویزات کے بغیر ملک میں آنے والے غیر ملکی طلباء کو پناہ دینے جیسے کاموں میں ملوث تھےاور حکومت ایسے کاموں کو روکنا چاہتی ہے کیونکہ اس سے ملک پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد