پانچ سال میں چار دیو بندی علماء قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں گذشتہ پانچ برسوں میں دیوبند مسلک سے تعلق رکھنے والے جن چار اہم مذہبی علماء کو قتل کیاگیا ان کا قتل ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ پولیس مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی نظام الدین شامزئی، مفتی جمیل خان اور مولانا نذیر تونسوی کے قاتلوں کوگرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مدرسہ بنوریہ کے بانی مولانا یوسف لدھیانوی کو اٹھارہ مئی سنہ دوہزار میں قتل کیاگیا تھا۔ ان کی ہلاکت تاحال پراسرار رہی ہے۔ اس واقعہ کے ٹھیک چارسال بعد تیس مئی کو مفتی نظام الدین شامزئی کو قتل کیاگیا۔گذشتہ سال نو اکتوبر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستاں کے ناظم مفتی محمد جمیل خان اور مولانا نذیر تونسوی کو قتل کیاگیا۔ ان سب علماء کا تعلق مدرسہ بنوریہ ٹاؤن اور جامعہ بنوریہ سے تھا اور یہ علماءکرام فتویٰ جاری کرنے کا اختیار رکھتے تھے۔ مدرسے کے ذرائع کے مطابق مولانا شامزئی مجاہدین میں بھی اثر رسوخ رکھتے تھے۔ مولانہ مسعود اظہر سمیت کئی مجاہد کمانڈر ان کے شاگرد رہے چکے ہیں۔ جبکہ ملاعمر ان کے دوست سمجھے جاتے ہیں۔ مفتی نظام الدین شامزئی نے سوویت یونین اور امریکہ کے خلاف افغانستاں میں جہاد کا فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔ وہ پاکستان افغانستاں دفاع کونسل کے رہنما بھی تھے۔ افعانستاں پر امریکی حملے سے قبل اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کے لئے پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے علماء میں مفتی شامزئی بھی شامل تھے۔ بنوریہ ٹاؤن مدرسہ کے ترجمان قاری عثمان کا کہنا ہے کہ علمائےکرام کے قاتل گرفتار نہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑے طبقے میں احساس محرومی جنم لے رہا ہے۔ جو آنے والے وقتوں میں کوئی بھی رخ اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تحقیقاتی کمیشن قائم کرنا چاہیے تھا، جو اب تک قائم نہیں کیاگیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ رؤف صدیقی کا کہنا ہے کہ لواحقین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کے ان مقدمات میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ لہذا اب ہر مقدمے پر علیحدہ علیحدہ توجہ دی جائےگی اور تحقیقات تیز کی جائےگی۔ وزیر داخلہ نے علماء سے اپیل کی کہ حکومت کی جانب سے فراہم کئے گئے پولیس گارڈز اپنے ہمراہ رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گارڈز نہ ہونے کی وجہ سے علماء حملہ آوروں کے آسان شکار بن جاتےہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||