خودکش حملوں پر علماء کا فتویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے اٹھاون علماء نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ کسی اسلامی ملک کے اندر عوامی مقامات پر خود کش حملے کرنا اسلام میں حرام ہے اور اسے ثواب سمجھ کر کرنے والا اسلام سے خارج ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کی جدوجہد اس فتویٰ کی ذیل میں نہیں آتی۔ اس فتویٰ کا اعلان رویت ہلال کمیٹی کے چئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے منگل کے روز لاہور میں جامعہ اسلامیہ میں ایک پریس کانفرنس میں کیا جس کی اطلاع پریس کو آج صبح ہنگامی طور پر وفاقی حکومت کے پریس انفارمیشن ڈپارٹمینٹ نے دی تھی۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ مسجدوں اور امام بارگاہوں پر حملے کرنا اسلام میں قطعاً جائز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ دینی جماعتیں ایسے حملے کرنے کے لیے اپنے کارکنوں کی برین واشنگ کرتی ہیں۔ مفتی منیب الرحمن نے بی بی سی کو کہا کہ یہ فتوی پاکستان کے تناظر میں دیا گیا ہے جہاں گزشتہ پندرہ برسوں میں قتل کے بہت سے واقعات ہوئے ہیں اور عوامی مقامات پر اور عبادت گاہوں میں بم دھماکوں میں لوگ مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس فتوی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اسلام کو بدنام کیا جارہا تھا کہ یہ قتل اس کی آر میں کیے جاتے ہیں اور علماء مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قتل پر اکساتے ہیں۔ مفتی منیب نے کہا اگر کسی اسلامی ملک میں غیر مسلم شہری ریاست کی اجازت سے آئے تو اس کی جان لینا بھی حرام ہے کیونکہ اسلام اس کے جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے ان کے بقول مظلوم مسلمانوں کی جدوجہد اس فتویٰ کی ذیل میں نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ پوری متمدن دنیا میں آزادی کی تحریکوں کو جائز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی دہشت گردی، انفرادی دہشت گردی اور گروہی دہشت گردی سب کی مذمت ہونی چاہیے اور دہشت گردی اور تحریک آزادی کی تعریف متعین کی جانی چاہیے۔ علما نے یہ بھی کہا کہ ماورائے عدالت قتل کی بھی اسلام میں اجازت نہیں۔ ان میں جامعہ اشرفیہ کے مہتمم عبیداللہ اشرفی، جامعہ منہاج الحسین کے علامہ حسین اکبر، جامعہ خیرالمدارس کے حنیف جالندھری، مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی اور شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک، جامعہ نظامیہ رضویہ کے عبدالصطفی ہزاروی، جامعہ اسلامیہ لاہور کے مفتی محمد خان قادری اور جامعہ اسلامیہ مدینۃ العلوم کراچی کے مفتی محمد رفیق حسنی شامل ہیں۔ بعض ممتاز علما نے اس فتوی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے حکومت اور امریکہ کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ لاہور میں بریلوی مسلک کے ممتاز مدرسہ جامعہ نعیمیہ نے اس فتوی کی محالفت کی ہے اور اس کے عالم سرفراز نعیمی نے اس پر ستخط کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اس وقت ایسے فتوے کی ملک میں ضرورت نہیں اور وہ اس بارے میں تحفظات کا شکار ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو کہا کہ اس فتوی سے کفار او ر امریکہ کو فائدہ ہوگا۔ مولانا سرفراز نعیمی نے بی بی سی کو کہا کہ اس وقت تو عراق اور افغانستان میں امریکہ مسلمانوں کو قتل کررہا ہے اور اس کے بارے میں فتوی جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ان علما سے یہ فتوی دلوایا ہے تاکہ امریکہ دنیا بھر میں یہ کہہ سکے کہ خود کش حملے حرام ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||