خواتین حملہ آورں کی تلاش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نےکالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین کا سراغ لگایا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ شہر میں مختلف مقامات پر خود کش حملے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کراچی پولیس کے سربراہ طارق جمیل نے بتایا کہ اس بات کا پتہ چل چکا ہے کہ یہ خواتین کون ہیں اور کہاں رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین گزشتہ کئی روز سے اپنے گھروں سے غائب ہیں اور ان کے گھر والے بھی ان کے لیے پریشان ہیں۔ طارق جمیل نے کہا کہ تفتیش جاری ہے اور مذید تفضیلات فی الحال نہیں بتائی جا سکتیں۔ پولیس حکام کے مطابق لشکر جھنگوی کے ایک گرفتار رکن گل حسن نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ اس کی تنظیم نے کچھ خواتین کو بھی خود کش حملوں کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ خواتین اپنے پرس ، اسکول کے بستے یا پھر برقعے کے اندر دھماکہ خیز مواد لے کر خواتین کے اجتماعات میں اور دیگر مقامات پر کاروائی کر سکتی ہیں ۔ پولیس نے کسی بھی ممکنہ حملے کے پیش نظر شہر میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ سندھ پولیس کے سربراہ سید کمال شاہ نے گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دو کم عمر لڑکیوں کی نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی شناخت ہو گئی ہے۔ سید کمال شاہ کے مطابق دونوں لڑکیاں پڑھے لکھے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے والد بینکار ہیں۔ کمال شاہ کے مطابق ان لڑکیوں کے گھر والوں نے بتایا ہے کہ دونوں لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ ایک مقدس مقصد کے لیے جا رہی ہیں۔ سندھ پولیس کے سربراہ سید کمال شاہ نے تیرہ جون کو بھی ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سات مئی کو مسجد حیدری میں اور اکتیس مئی کو امام بارگاہ علی رضا میں ہونے والے خود کش بم دھماکوں کے بعد کالعدم لشکر جھنگوی کے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والے دو افراد گل حسن اور قاری امان اللہ نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ انہوں نے ان دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور اکبر نیازی نامی شخض کو مسجد حیدری اور محمد علی کھتری نامی شخض کو امام بارگاہ علی رضا میں خود کش حملوں کے لیے تیار کیا تھا۔ ان دھماکوں میں دونوں حملہ آوروں سمیت تقریبا پچاس لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||