حملہ آور کا سر، شناختی کوششیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اندرون مسجد کشمیریاں کے خودکش حملہ آور کا بغیر دھڑ کا سر مل گیا ہے اور اس کے چہرے کے نقش کے ذریعے اس کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہےاس کے چہرے کا نقش اخبارات کو بھی جاری کیا جا رہا اور حکومت نے مبینہ خودکش حملہ آور کی شناخت یا نشاندہی کرنے والے کے لیے پانچ لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ لاہور پولیس کے ایک انسپکٹر نے بی بی سی ڈاٹ کوم کو بتایا کہ’ خود کش حملہ آور کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے ہیں اور کئی اعضا تو ملے ہی نہیں تاہم اس کا سر دھڑ سے الگ ہوگیا تھا اوراس کا چہرہ مسخ ہونے سے بچ گیا ہے جس سے پولیس کو یہ امید ہو چلی ہے کہ اس کی شناخت ہوسکے گی‘۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مبینہ خود کش حملہ آور کے ہاتھ میں بریف کیس نہیں بلکہ شاپنگ بیگ قسم کی کوئی چیز تھی وہ مرکزی دروازے سے اندر جانا چاہتا تھا۔لیکن وہاں تعینات ایک گارڈ افضل عرف دلبر نے اسے روک کر میٹل ڈیکٹٹر سے اس کی تلاشی لینا چاہی تو اس نے خود کو چھڑ ا لیا اور اندرکی جانب بھاگنے لگا جہاں سو کے قریب نمازی موجود تھے ۔ امام بارگاہ حسینیہ کے متولی جعفر بھی آنے والوں کی تلاشی پر تعینات تھے انہوں نے اسے اپنی گرفت میں لیے لیا گارڈ افضل بھی آکر گتھم گتھا ہوا اس دوران بم ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ پولیس کے ایک تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ خود کش حملہ آور نے یہ بم اپنی کمر کے گرد باندھ رکھا تھا۔ بم کے اجزا کے تجزیہ کار اللہ یار نے بتایا کہ بظاہر کسی بریف کیس کے اجزاء یا اس کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں لاش کی حالت بتاتی ہے کہ بم حملہ آور کے جسم کے گرد بندھا تھا انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے بم دیسی ساخت کے ہوتے ہیں اور ٹی وی کے ریموٹ کنٹرول سے ذرا چھوٹے ریموٹ سے اس کا دھماکہ کیا جاتا ہے اور یہ ریموٹ خود کش حملہ آور خود اپنے ہاتھ میں تھامے ہوتا ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق اس دوران ایک دو فائر کی آواز بھی سنی گئی لیکن ابھی اس بات کا تعین نہیں ہوا ہے کہ یہ فائرنگ سیکورٹی گارڈ نے کی تھی یا حملہ آور نے کی ہے۔ حادثے میں ہلاک ہونے والے کم سن سلمان کے والد رشید اور والدہ بھی ہسپتال میں نوحہ خواں تھے انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ سلمان کو اس کی والدہ نے کہا تھا کہ کھانا کھا لو لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ’میں نماز پڑھ آؤں پھر کھا لوں گا۔‘ سلمان کی والدہ نے کہاکہ انہوں نے دھماکہ کی آواز سنی تو وہ سمجھیں کہ شائد کسی نے شادی کی تقریب میں پٹاخہ چلایا ہے لیکن پھر علم ہوا کہ اپنا ہی لخت جگر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ایک زخمی بشیر نے بتایاکہ وہ اور ان کا آٹھ سالہ بیٹا نصیر مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گئے تھے اسی دوران ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے فوری بعد ان کے ہوش و حواس کھوگئے اور پھر ہسپتال میں ہی انہیں ہوش آیا ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||