BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آئندہ مرنے والوں کیلیے 20 کروڑ‘

لاہور
نئے ماسٹر پلان کے تحت شہر کی اندرونی سڑکوں کو بھی چوڑا کیا جائے گا۔
منگل کو لاہور کی ضلع کونسل نے شہر کا نیا ماسٹر پلان منظور کیا جسے پیش کرتے ہوئے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے کہا کہ قبرستان لاہور کا بڑا مسئلہ ہیں اور نئے قبرستان بنانے کے لیے اس ماسٹر پلان میں بیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

اس سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ ماسٹر پلان کا مقصد یہ ہے کہ تیزی سے پھیلتا ہوا شہر منظم طریقے سے بڑھے اور اتنا تنگ نہ ہوجائے کہ لوگوں کے لیے ایک سے دوسری جگہ جانا مشکل ہوجائے۔

ضلعی ناظم نے کہا کہ نئے ماسٹر پلان میں دیکھا گیا ہے کہ اس میں سڑکیں کہاں بنائی جا سکتی ہیں اور تجارتی مراکز کہاں اور شہر کی توسیع کے لیے کتنے وسائل درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ماسٹر پلان کے علاوہ شہر کی سڑکوں کا منصوبہ بھی بنایا جارہا ہے۔

میاں عامر نے کہا کہ نئی سوسائٹیاں جو لاہور ترقیاتی ادارہ کی منظوری سے بن رہی ہیں ان میں ایک سو پینتالیس کلومیٹر لمبی سڑکیں بنانے کے لیے جگہ حاصل کی گئی ہے۔ نجی سوسائیٹیوں نے خود سڑکیں بنائی ہیں اور کچھ حکومت بنائے گی۔

ضلعی ناظم نے کہا کہ لاہور کے گرد رنگ روڈ بنائی جائے گی جسے ڈیڑھ سال میں مکمل کر لیاجائےگا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ یہ رنگ روڈ پہلے کے منصوبہ سے مختلف ہے جو شہر کے باہر کے علاقوں سے گزرتی تھی، خصوصاً جنوبی علاقوں سے، جہاں کم ٹریفک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب رنگ روڈ کو مصروف علاقوں سے گزارا جارہا ہے جہاں زیادہ ٹریفک کا ہجوم رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر کے گرد پہلا رنگ ہوگا جس کے بعد دوسرا اور تیسرا رنگ تعمیر کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے نومبر میں وزیراعلی پنجاب لاہور کی سڑکوں کے ایک نئے منصوبے کا افتتاح کریں گے جو بیس ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے لاہور کا نقشہ ہی بدل جائے گا۔

میاں عامر نے یہ بھی بتایا کہ چین کی کمپنی سے شہر میں لائٹ ٹرین چلانے کے منصوبہ پر بات چیت ہو رہی ہے جو حکومت چاہتی ہے کہ نجی شعبہ کے اشتراک سے بی او ٹی (بناؤ ، چلاؤ اور منتقل کرو) کی بنیاد پر بنایا جائے۔

ماسٹر پلان پیش کرتے ہوئے ضلع کونسل میں میاں عامر نے کہا کہ دھرم پورہ بانڈر پاس اور میاں میر میں ایک بڑا ہسپتال بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے ارد گرد کے دیہات اگر ضلعی حکومت کو بیس فیصد لاگت دیں تو باقی اسی فیصد لاگت حکومت ادا کر کے ان کے لیے پینے کے پانی کے منصوبے بنانے کے لیے تیار ہے۔

لاہور کے گرد رنگ روڈ کی تعمیر دس بارہ سال پرانا منصوبہ ہے جو تاخیر کا شکار ہوتا آیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اسے اس سال جون میں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

عالمی بینک اور دوسری عالمی ایجنیسوں نے گجرانوالہ سے آنے والی ٹریفک کو ملتان کی طرف جانے کے لیے شہر سے گزارنے کے بجائے باہر سے گزارنے کے لیے رنگ روڈ باہر کے علاقوں میں تعمیر کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ تاہم میاں نواز شریف کے زمانے میں اس رنگ روڈ میں ان کے رائے ونڈ کے فارم ہاوس کو بھی احاطے میں لینے کے لیے اسے اور باہر کی طرف بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔

اب موجودہ حکومت نے جو منصوبہ پیش کیا ہے وہ رنگ روڈ کے بجائے ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں موجودہ سڑکوں کو بہتر اور کشادہ بنایا جائے گا تاہم اسے صحیح معنوں میں شہر کی رنگ روڈ قرار دینا مشکل ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد