BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 October, 2004, 12:41 GMT 17:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خود کش حملہ آوروں کی نشانیاں

کراچی امام بارگاہ
کراچی کی امام بارگاہ میں حملے کے متاثرین
سندھ پولیس نے مسجد، مدارس اور امام بارگاہ کمیٹیوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خود کش حملوں کی روک تھام کے لیے ممکنہ حملہ آور کی شناختی علامات کو مساجد کے بیرونی دروازوں پر چسپاں کریں۔

ڈی آئی جی آپریشنز کراچی فیاض احمد لغاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہدایات جاری کرنے کا مقصد عوام میں دہشت گردی کے خلاف آگاہی پیدا کرنا ہے۔

آئی جی سندھ سید کمال شاہ کی طرف سے پولیس افسران کو جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ امام بارگاہوں، مساجد و مدارس میں دہشت گردی کی وارداتوں کے طریقہ کار اوران کے لیے استعمال کی جانے والی اشیاء اور ہتھیاروں کے بارے میں ایک تفصیلی نوٹ لکھ کر تمام مذکورہ مقامات کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کیا جائے تاکہ نمازی، طلبہ و دیگر افراد ذہنی طور پر چوکنا رہیں۔

پولیس کے مطابق خودکش حملوں کی مذمت اور روک تھام کے سلسلے میں کسی بھی ایسے شخص پر کڑی نگاہ رکھی جائے جو غیر موسمی لباس یا موٹے کپڑے پہنے ہو، بظاہر پریشانی کے عالم میں اپنے کپڑے بار بار درست کررہا ہو یا ان کو چھو رہا ہو، لوگوں میں گھلنے ملنے کیلئے غیر معمولی اور بے تکی حرکات کررہا ہو، بہت زیادہ پسینے میں شرابور ہو، آہستہ آہستہ چل کر اطراف میں دیکھ رہا ہو یا منہ ہی منہ میں بڑ بڑا ہرا ہو یا اس نے تازہ شیو کر کے خوشبو لگائی ہو۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی کے شیریٹن ہوٹل اور کوئٹہ کی امام بارگاہ اور دیگر خود کش حملوں میں ان شناختی علامات کا خصوصی طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے۔

پولیس نے امام بارگاہوں، مساجدو مدارس کی انتظامیہ کو اپنے طور پر بھی رضا کار متعین کرنےکے لئے کہا ہے۔ ہر امام بارگاہ اور مسجد کے دروازوں پر لوگوں کی میٹل ڈٹیکٹر سے چیکنگ ، ان کی شناخت اور مین گیٹ پر ان کا اندراج کیے جانے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ کمیٹیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چھتوں پر رضاکاروں کا پہرہ لگائیں، مشتبہ افراد پر نظر رکھیں، کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کریں اور مساجد و امام باگاہوں کے نزدیک موٹر سائیکل یا دوسری گاڑیوں کی پارکنگ ممنوعہ قرار دے دیں۔

پولیس رضاکاروں کو ان احتیاطی تدابیر کی بابت خصوصی تربیت بھی دے گی۔

آئی جی سندھ نے دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق احتیاطی تدابیر کو عوام میں عام کرنے کیلئے مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ الیٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کے متعلق قرآنی تعلیمات کو عام کیا جائےاور امن و سلامتی اور بھائی چارگی سے متعلق دینی لٹڑیچر بڑے پیمانے پر تقسیم کرنے کا انتظام کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد