پاکستان: مذہبی اجتماعات پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے ملک بھر میں مذہبی وسیاسی اجتماعات اور جلسے جلوس منعقد کرنے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم صوبائی حکومت مرکزی حکومت سے مشاورت کے بعد کسی جماعت کو جلسے جلوس کی اجازت دے سکےگی۔ یہ فیصلہ ملتان میں ہونے والے کار بم دھماکے کے بعد وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے طلب کردہ ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کے متعلق صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے بتایا کہ چار دیواری کے اندر جلسے منعقد کرنے پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ وزیر نے بتایا کہ انہوں نے ملتان دھماکے کے بعد حکومتی اقدامات کے متعلق ملک کے نمائندہ سیاسی رہنماؤں بشمول مولانا فضل الرحمٰن، مخدوم امین فہیم اور چودھری نثار علی خان کو فون کر کے اعتماد میں لیا ہے۔ انہوں نے ملتان بم دھماکے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو فجر کے وقت ملتان میں مولانا اعظم طارق کی برسی کے سلسلے میں منعقد جلسہ ختم ہونے کے بعد لوگ واپس جارہے تھے کہ محلہ رشید آباد میں ایک کار جس میں بم نصب تھا کو ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔ اس دھماکے میں ان کے مطابق انتالیس افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔ وزیر داخلہ کے مطابق یہ فرقہ وارانہ نہیں بلکہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گاڑی کا انجن ملا ہے جس سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ وزیر کا کہنا تھا کہ ملتان واقعے کی کڑیاں سیالکوٹ سے مل سکتی ہیں اور بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حتمی صورتحال کا پتہ تحقیقات کے بعد ہی چلے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملتان میں فوج کو جمعرات کی صبح گشت کرنے کے لیے طلب کرلیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ انہوں بتایا کہ چاروں صوبائی حکومتوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ آٹھ اکتوبر کو جمعہ کی نماز کے موقع پر ملک بھر میں غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے قانون پر سختی سے عمل کرانے اور کالعدم جماعتوں کو سرگرمیوں کی اجازت نہ دینے کا بھی فیصلہ ہوا ہے اور اس ضمن میں بھی صوبائی حکومتوں کو ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے لیے کہا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت ملتان بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو فی کس پانچ لاکھ جبکہ فی زخمی پچاس ہزار امداد دے گی۔ ہلاک ہونے والے کے لیے اڑھائی لاکھ روپے پنجاب کی صوبائی حکومت جبکہ اتنی ہی رقم مرکزی حکومت ادا کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||