BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 November, 2003, 12:51 GMT 17:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں مزید تین تنظیمیں کالعدم
یہ پابندی شدت پسندی کے خلاف حکومت کے حالیہ آپریشن کا حصہ ہے
امریکہ نے پاکستان کے حالیہ اقدامات کو سراہا ہے

پاکستانی حکومت نے شدت پسندی کے خلاف تازہ آپریشن میں جمعرات کو مزید تین مذہبی تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک بیان کے مطابق ان تین جماعتوں میں جمیعتِ فرقان، حزب التحریر اور جمیعت الانصار شامل ہیں۔ جمیعت الفرقان ، کالعدم تنظیم جیش محمد کا حصہ بتائی جاتی ہے اور یہ تنظیم الفرقان کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔

جمیعت الفرقان کے رہنما عبدالجبار پر الزام ہے کہ سن دو ہزار دو میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہیں اسی سال جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا یہ اقدام انسداد دہشتگردی کے قوانیں کے تحت کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے بھی تین جماعتوں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا جن میں خدام الاسلام اور کشمیر میں متحرک دو تنظیمیں شامل ہیں جبکہ کشمیر ہی میں سرگرم ایک اور تنظیم جماعت الدعویٰ کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ حکومت اس دفعہ زیادہ گرفتاریاں کرنے کے بجائے ان سے مالی ضمانت طلب کررہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتا یا ہے کہ مرکزی بینک کو ان تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

اسلام آ باد میں امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے پاکستانی حکام کے ان اقدامات کی تعریف کی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد