’پیسہ دیکھ کر علماء کے منہ میں پانی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل، کے جنرل سیکریٹری مولانا فضل الرحمان نے پاکستانی علماء کو خبردار کیا ہے کہ وہ پیسوں کی خاطر دینی مدارس کا نصاب تبدیل نہ کرنے دیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دینی مدارس کا نصاب تبدیل کرنے کے لئے امریکہ نے پاکستان کو ساٹھ کروڑ ڈالر دینے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سے ان کے بقول دس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم تقسیم بھی ہو رہی ہے۔ منگل کی شام آبپارہ کے کمیونٹی حال میں مقامی تنظیم کی جانب سے منعقد کردہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی حکومت پاکستان نے زکوات کی رقم اس مد میں فراہم کی تھی اور علماء حضرات کو پیسہ دیکھ کر منہ میں پانی آگیا تھا، جبکہ ان کی جماعت نے ایسی رقم کو سود کا پیسہ بھی قرار دیا تھا۔ انہوں نے علماء کو پشتو زبان کی کہاوت سنائی کہ اگر پگڑی سر سے گر کر کندھے میں اٹک جائے تو بھی خیر ہے اور وہ بے عزتی قابل برداشت ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کا کہنا تھا کہ علماء امریکی رقم لے کر کندھے تک پگڑی گرائیں تو خیر ہے لیکن مکمل طور پر نیچے تک نہ گرنے دیں۔ ان کی اس مثال پر سینکڑوں علماء جس میں کئی سفید ریش بھی تھے مسکرا رہے تھے۔ امریکہ اور صدر جنرل پرویز مشرف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کے نام پر اسلام پسندوں کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ امریکہ الیکٹرانک میڈیا کے زور پر دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن بقول ان کے ان کی میڈیا وہ علماء ہیں جو ممبر اور محراب کے ذریعے براہ راست عوام سے مخاطب ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||