BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 April, 2004, 21:04 GMT 02:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیفٹ رائٹ میں پھنسا تعلیمی نصاب

News image
نصاب میں تبدیلی کی ضرورت کو سبھی محسوس کرتے ہیں
پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں تبدیلیوں کے لیے شروع کیا گیا مشاورتی عمل، سیاسی حلقوں اور متضاد نظریات کے حامل پریشر گروپوں کی جانب سے سیاسی بیان بازیوں اور اپنے اعتقادات کی ترویج کے بعد متنازعہ بن کر رہ گیا ہے جس میں کسی ٹھوس پیش رفت کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ معدوم ہوتے چلے جا رہے ہیں ـ

حکومت کی جانب سے درسی کتب پر نظرثانی کے لئے بنائی گئی اعلی سطح کی کمیٹی کا پہلا اجلاس سیاسی بائیکاٹ کی نذر ہو چکا ہے اور آئندہ اجلاس کے لیے تا حال کسی ایجنڈے یا نظام الاوقات کا تعین بھی نہیں ہو سکا۔

یہ اجلاس منگل کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ افتتاحی اجلاس میں دو متضاد نظریات کی نمائندگی کرنے والے فریقوں میں سے ایک بھی شریک نہیں ہوا ـ

دائیں بازو کی جماعتوں کے مجموعے متحدہ مجلس عمل نے یہ کہ کر اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا کہ اس کمیٹی میں تمام سیاسی اور نظریاتی دھڑوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ جبکہ نصاب میں مجوزہ تبدیلیوں کے مجموعے کے خالق، ڈاکٹر اےـ ایچ ـ نیر نے، جنہیں نام نہاد بائیں بازو کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے ، بی بی سی کو بتایا کہ انہیں مذکورہ اجلاس کے لئے دعوت نامہ ہی نہیں ملا۔

اس پندرہ رکنی کمیٹی میں وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ ، تعلیمی بیوروکریسی ، غیرحکومتی تنظیموں اور مختلف مکتبہُ فکر کے حامل ماھرین تعلیم کو نمائندگی دی گئی ہے ـ

اس کمیٹی کے پہلے اور غیر نتیجہ خیز اجلاس کے بعد اس حساس مسئلے پر پیش رفت کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں جبکہ بڑی سیاسی جماعتیں، حکومت اور ماہرین تعلیم اور غیر حکومتی تنظیموں پر مشتمل مختلف پریشر گروپوں، ملک میں پڑھائی جانے والی تدریسی کتب میں تبدیلی کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ اخبارات میں نمایاں جگہ پا رہے ہیں ـ

گو کہ نصاب تعلیم وفاقی حکومت کا مسئلہ نہیں ہے اس کے باوجود وفاقی سطح پر بنائی گئی کمیٹی ابھی تک کام کا آغاز نہیں کر پائی۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک یہ ہی طے نہیں ہو سکا کہ کس نوعیت کے اسباق غیر مناسب ہیں جنہیں حذف کیا جائے اور وہ کون سے تاریخی حقائق ہیں جنہیں نئی نسل تک پہنچانے کا بندوبست کیا جائے۔

اس بارے میں مختلف مکاتیب فکر کے دانشوروں اور سیاستدانوں نےمختلف تجاویز پیش کی ہیں جن میں سے بیشتر بالکل متضاد ہیں ـ

مثال کے طور پر ڈاکٹر نیّر اپنی تجاویز پر مشتمل دستاویز میں لکھتے ہیں کہ چھوٹی جماعتوں کے بچوں کہ جو کتب پڑھائی جا رہی ہیں ان میں اقلیّتوں، بالخصوص ہندوؤں کے خلاف نفرت پھیلانے والا مواد شامل ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو شدّت پسند بناتا ہے۔

ڈاکٹر نیّر کے مطابق ان کتب میں نظریہ پاکستان کو ’غیر ضروری انداز اور تناسب‘ میں اجاگر کیا گیا ہے جو نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر نیّر اور ان کے ساتھیوں کی تیّار کردہ اس رپورٹ کے مخالفین کی تعداد اس پر عمل کروانے کے حامیوں سے کہیں ذیادہ ہے۔

ڈاکٹر دشکاہ سیّد جو اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کی سربراہ ہیں اس رپورٹ سے بالکل مختلف خیالات رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی نئی نسل کو قیام پاکستان کے مقاصد سے آگاہ کئے بغیر انہیں اچھا پاکستانی نہیں بنایا جا سکتا-

تاریخ کے نصاب پر نظر ثانی کرنے والی کمیٹی میں شامل ہیں، ڈاکٹر دشکاہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نیّر اور ان کے ساتھی مسلمانوں کے تاریخی ہیروز کے ذکر کو نصاب سے نکال دینا چاہتے ہیں اور وہ اس کوشش کی سختی سے مخالفت کرتی رہیں گی۔

اس وقت جبکہ ملکی سیاسی افق پر تعلیمی نصاب کو کم یا زیادہ اسلامی بنانے پر بحث ہو رہی ہے، یہ کتابیں پڑھنے اور پڑھانے والے اس بحث سے بیزار نظر آتے ہیں۔

’مسُلہ یہ نہیں ہے کہ بچوں کو نظریہ پاکستان کا رٹّا لگوایا جائے یا اقلیّتوں سے محبت کا درس دیا جائے، اصل بات یہ ہے کہ ہمارا نصاب عملی زندگی کے بارے میں طلباء کو کچھ نہیں بتاتا‘ یہ بات جاوید نیازی نے بی بی سی کو اسلام آباد میں واقع اپنے کالج میں بتائی۔ وہ اس کالج میں تاریخ اور جغرافیہ کے استاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا نصاب عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

جاوید نیازی کے طلباء تو ان سے بھی آگے کی سوچتے ہیں۔ اپنے نصاب سے مطمئن ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جب ان کے ایک طالب علم سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دسویں جماعت میں جو تاریخ انہیں پڑھائی جا رہی ہے اس میں سکوت ڈھاکہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

جاوید نیازی کے مطابق اس موضوع کا ذکر تو اس سے سینئر کلاسوں میں بھی نہیں ملتا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد