قابل اعتراض درسی مواد کی تحقیق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے اس اقدام کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے جس کے تحت نصابی کتابوں میں ایسا مواد شامل کیا گیا جو مبینہ طور پر اسلامی روایات کے مطابق نہیں۔ انہوں نے یہ حکم اختتام ہفتہ ایک اعلی سطحی اجلاس میں دیا جس میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی سربراہ کی اس وضاحت کو قبول نہیں کیا گیا کہ درسی مواد وفاقی وزارت تعلیم کی منظوری کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ غیر مناسب مواد کی حامل کتابوں کی اشااعت روک دی جائے اور جو کتابیں طلباء میں تقسیم ہو چکی ہیں ان کے متن کی اساتذہ کی مدد سے تصیح کر لی جائے۔ اطلاعات کے مطابق بعض درسی کتابوں میں اظہار کے ایسے پیرائے اختیار کئے گئے ہیں جو خطے میں مروجہ اسلامی روایات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ درسی کتابوں سے جہاد سے متعلق حوالے حذف کر دئیے گئے ہیں جو بظاہر مغربی مملک کے دباؤ کا اشارہ ہے۔ گزشتہ ہفتے صدر پرویز مشرف نے درسی کتابوں میں قابل اعتراض مواد کی اشاعت کا سختی سے نوٹس لیا تھا۔ اس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال کہہ چکی ہیں کہ ایسے کسی اقدام کا وفاقی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت اور ٹیکسٹ بک بورڈکے مابین موجودہ تنازعہ ایک ایسے مرحلے پر سامنا آیا ہے جب دینی مدارس کے طلبا نے سرکاری مداخلت کے خلاف پندرہ اپریل سے ایک ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||