نصاب سے ناراض ُسنّی جماعتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اہل سنت کی تیس سے زیادہ مذہبی جماعتوں اور تنظیموں نے نصاب تعلیم میں تبدیلیوں پراحتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ان جماعتوں نے وفاقی وزیرتعلیم زبیدہ جلال کے استعفے اور ان کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کو لاہور میں اہل سنت (بریلوی مکتب) کی اڑتیس جماعتوں کی ایک کانفرنس جامعہ نعیمیہ میں ہوئی جس کی صدارت عالمی تنظیم اہل سنت کے مرکزی صدر افضل قادری نے کی اور اس اجلاس میں مفتی سرفراز نعیمی اور سنی بریلوی مکتب کے دوسرے بڑے علما شریک ہوۓ۔ کانفرنس کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وفاقی وزیرتعلیم زبیدہ جلال اپنے عہدوں سے استعفے دیں کیونکہ یہ دونوں افراد ملک کے نصاب تعلیم کو لادینیت کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ کانفرنس نے وفاقی وزیرتعلیم زبیدہ جلال کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف آئین کی اسلامی شقوں کے خلاف کام کرنے پر انھیں سزا دی جاۓ۔ کُل جماعتی کانفرنس نے کہا کہ سیکنڈری جماعتوں کی جو نئی نصابی کتابیں آئی ہیں ان میں اردو، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کے مضامین کی کتابوں پر سے قرآنی آیات نکال دی گئی ہیں حالانکہ وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے کہا تھا کہ ایسا نہیں کیا جاۓ گا۔
اہل سنت کی ان جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ نئے کورس کی کتابوں کو واپس لے کر پرانی کتابوں کوبحال کیا جاۓ۔ کانفرنس نے الزام لگایا کہ ایڈز کے نام پر نصاب میں بے حیائی اور جنسی تعلیم کا باب شامل کیا گیا ہے جسے یہ جماعتیں مسترد کرتی ہیں اور اسے خارج کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ کانفرنس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت تعلیمی بورڈوں کے آغا خان فاؤنڈیشن سے الحاق کے معاہدے کو منسوخ کرے۔ کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایک نئی اعلی سطحی کمیٹی بناۓ جو ماہرین تعلیم اور علما پر مشتمل ہو اور یہ کمیٹی نصاب تعلیم کو نظریہ پاکستان اور اسلام کے اصولوں کے مطابق بنانے کا کام کرے۔ کانفرنس نے اعلان کیا کہ اگر یہ کمیٹی نہ بنائی گئی اور اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گۓ تو یہ جماعتیں ایک احتجاجی تحریک چلائیں گی۔ تحریک کے دوران گرفتاریاں دی جائیں گی اور جلوس نکالے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||