’نئی کتابوں کوجلا دیا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نصابی کتابوں میں تبدیلیوں پر تنازعہ جاری ہے اور اب حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت نے بھی نصابی کتابوں میں کی گئی تبدیلیوں کے خلاف بیان دیا ہے۔ نصاب تعلیم کی نئی کتابوں پر حسب سابق قرآنی آیات درج نہ کرنے اور مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کے کچھ ابواب میں تبدیلیوں کو ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں تعلیمی نظام کو سیکولر بنانے کی کوشش قرار دے رہی ہیں۔ حکمران جماعت مسلم لیگ(ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے ہفتے کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی نصابی کتابوں کو درست کرنے کے بجائے ان کو اکٹھا کرکے جلا دیا جائے۔ مجلس عمل کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت نے اس نصاب میں تبدیلی کے معاملہ کو حل نہ کیا تو اس کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جو لوگ موجودہ نصابی تبدیلیوں کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ لاہور میں مسلم لیگ(ق) کے میڈیا سیل نے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق چودھری شجاعت حسین نے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات میں زور دے کر کہا کہ کہ نئی نصابی کتابوں پر فوری پابندی لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے طالب علموں کا تعلیمی نقصان تو ہوگا لیکن یہ بات برداشت نہیں کی جاسکتی کہ طلبا جو مستقبل کے پاکستان کے معمار ہیں تحریک پاکستان اور اسلامیات کا غلط اور تحریف شدہ مواد پڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ نئی نصابی کتابوں کو فوراً ضائع کرکے تحریک پاکستان اور اسلامیات کی روح کے مطابق نئی کتابیں شائع کریں۔ مجلس کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیرِ تعلیم زبیدہ جلال نے پہلے تو نصاب میں تبدیلیوں سے انکار کیا لیکن جب مجلس عمل نے انہیں کتابیں دکھا دیں تو انہوں نے اس کی ذ؛مہ داری پنجاب حکومت اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ پر ڈال دی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ سارا کھیل امریکہ کے کہنے پر کھیلا جارہا ہے اور پنجاب حکومت پر الزام لگانا لغو بات ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||