BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 17:55 GMT 22:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایک بمبار پاکستان گیا تھا‘

حسیب احسن
مبینہ برطانوی خودکش حملہ آور حسیب احسن جس کے بارے کوائف ابھی جمع کیے جا رہے ہیں
پاکستانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لندن پر خودکش حملوں کے ملزموں میں سے ایک پاکستان گیا تھا۔

لیکن اب تک حکام اس بات کی نشاندھی نہیں کر سکے کہ مبینہ خود کش حملہ آور شہزاد تنویر کیا کیا کرتا رہا اور کس کس سے ملا۔

ان حکام کا کہنا ہے کہ وہ دو بار پاکستان آیا اور مجموعی طور پر چار ماہ پاکستان میں گزارے۔

بدھ کو تنویر کے چچا نے بتایا تھا کہ تنویر پاکستان بھی گیا تھا جہاں اس نے ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔

باخبر ذرائع کے حوالے سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے پاکستانی خفیہ ادارے اور تحقیقاتی ایجنسیاں برطانیہ کے مطالبے پر خود کش حملہ آوروں کے بارے میں تفصیلات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔

اس سے پہلے اسلام آباد سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار مبشر زیدی نے خبر دی تھی کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ انھیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ لندن بم دھماکوں میں ملوث افراد گزشتہ برس پاکستان آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں پاکستان کو کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں زیادہ تر سوالات لندن بم دھماکوں کی تفتیش کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے حوالے سے کیے گئے جس پر دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

انھوں نےان سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا اس برس مئی میں گرفتار ہونے والے ایک برطانوی شہری ذیشان صدیقی کا تعلق ان بم دھماکوں سے ہے یا نہیں۔

پاکستان کے ایک اخبار میں چھپنے والی خبر کے جواب میں جس میں کہا گیا ہے کہ لندن بم دھماکوں کی تفتیش کے لیے برطانوی پولیس کی ایک ٹیم پاکستان آ رہی ہے، دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ماضی میں بھی تعاون کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی برطانوی حکومت کی اس سلسلے میں پوری مدد کرے گی۔

ترجمان نے ایک پاکستانی جریدے ہیرالڈ میں شدت پسندوں کے تربیتی کیمپ دوبارہ شروع ہونے کے دعوے کی تردید کی اور کہا کہ پاکستان میں کوئی تربیتی کیمپ نہیں ہے۔انھوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ حکومت کے کچھ اداروں کے درمیان تربیتی کیمپوں کے بارے میں کسی قسم کے اختلافات ہیں۔

بھارت کے خارجہ سیکریٹری شیام سرن نے کل نئی دلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم نہیں کرتا تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ کے اس بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ الزامات ماضی کے اس دور کا حصہ ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے۔

جلیل عباس جیلانی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور بھارت کے رہنما امن مذاکرات کو جاری رکھنے پر متفق ہیں اور اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ دہشتگردوں کو ان مذاکرات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد