تفتیش میں تعاون کریں گے: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ٹیلیفون پر بات کی ہے جس میں انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کو لندن بم دھماکوں کی تفتیش کے سلسلے میں ہر ممکن مدد اور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب لندن بم دھماکوں میں ملوث ایک مبینہ ملزم شہزاد تنویر کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ گذشتہ برس پاکستان آیا تھا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے اور نہ ہی ابھی تک برطانوی حکومت نے پاکستانی حکام کو اس بارے میں کوئی ثبوت پیش کیے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں کی جانے والی تفتیش میں برطانوی حکام سے ہر ممکن تعاون کرے گا۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ برطانیوی پولیس اور خفیہ اداروں کی ایک ٹیم اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے خفیہ ادارے اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا شہزاد تنویر گذشتہ برس پاکستان آیا تھا اور اس نے لاہور اور فیصل آباد کے کسی مدرسے میں تربیت حاصل کی تھی۔ سرکاری سطح پر ابھی کچھ نہیں کہا جا رہا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کے اس بیان کے بعد کہ انھیں پاکستان کے کچھ مدرسوں کے بارے میں تحفظات ہیں، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی تمام تر توجہ اس مدرسے کا کھوج نکالنے پر ہے جہاں مبینہ طور پر شہزاد تنویر ٹھہرا تھا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کے مدارس کے بارے میں امریکہ اور یورپ اور مغربی ذرائع ابلاغ خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ یہاں شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔لندن بم دھماکوں کے بعد پھر سے دنیا بھر کی نظریں پاکستان کے مدارس پر لگ گئی ہیں۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی ہدایات پر ملک کے مدارس کی رجسٹریشن کا کام بھی جاری ہے جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل کی رفتار بہت سست ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||