بمبار کے ساتھیوں کی تلاش شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پولیس نے خبردار کیا ہے کہ لندن بم دھماکوں کی منصوبہ بندی اور اس کے لیے سرمایہ کاری کرنے والوں کو ڈھونڈنے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ سات جولائی کو لندن میں ہونے والے دھماکوں میں کم از کم چون افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ وارننگ اس وقت آئی ہے جب انسدادِ دہشت گردی کی تحقیقات کرنے والے حکام نے چوتھے مشتبہ خود کش بمبار کے متعلق مزید معلومات حاصل کی ہیں۔ ان کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ جمیئکا میں پیدا ہونے والے برطانوی شہری لِنڈسے جرمین لِنڈسے تھے اور وہ بکنگھم شائر کے رہنے والے تھے۔ لندن کے شمال میں الیسبری کے ایک علاقے میں پولیس ایک گھر کی تلاشی لے رہی ہے جس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ جرمین وہاں رہے تھے۔ پولیس ابھی بھی لیڈز میں رہنے والے ایک مشتبہ خود کش بمبار کے گھر کی تلاشی لے رہی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کے گھر سے ملنے والے دھماکہ خیز مواد گھریلو ساخت کا تھا اور اس طرح کا مواد اس سے پہلے کیے گئے کئی القاعدہ حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سلسلے پولیس ایک مصری کیمسٹری کے طالب علم کو تلاش کر رہی ہے جن کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ لیڈز سے فرار ہو چکے ہیں۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ لندن دھماکوں میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد فوجی ساخت کا تھا۔ اس سے قبل لندن بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے والے اداروں نے پہلی مرتبہ مبینہ خودکش حملہ آوروں میں سے ایک شخص کی تصویر جاری کی تھی۔ پولیس کے ترجمان نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو یقین ہے کہ اٹھائیس سالہ حسیب امیر حسین ٹیوسٹاک سکوائر میں بس میں ہونے والے دھماکے میں مارا گیا۔
اس دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی نے دھماکے سے کچھ دیر قبل حسیب کو دیکھا ہو یا اسے اس سلسلے میں کوئی معلومات رکھتا ہو تو وہ پولیس سے رابطہ کرے۔ پولیس نے اٹھارہ سالہ حسیب حسین اور بائیس سالہ تنویر شہزاد کے ناموں کی تصدیق کی ہے۔ تتنویر کے متعلق کہا گیا ہے کہ انہوں نے آلڈگیٹ ایسٹ پر ٹیوب میں حملہ کیا تھا۔ تیسرے بمبار تیس سالہ محمد صدیق خان کا تعلق مغربی یارکشائر کے شہر ڈیوسبری سے بتایا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ انہوں نے ایجویئر روڈ ٹرین پر اپنے آپ کو اڑایا تھا۔ تاہم ابھی تک پولیس کو موقع واردات سے اس کی فورینسک شہادت نہیں ملی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||