BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بمبار کے ساتھیوں کی تلاش شروع
حسیب حسین
لوٹن سٹیشن پر حسیب حسین رکسیک اٹھائے جا رہے ہیں
برطانیہ میں پولیس نے خبردار کیا ہے کہ لندن بم دھماکوں کی منصوبہ بندی اور اس کے لیے سرمایہ کاری کرنے والوں کو ڈھونڈنے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔

سات جولائی کو لندن میں ہونے والے دھماکوں میں کم از کم چون افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ وارننگ اس وقت آئی ہے جب انسدادِ دہشت گردی کی تحقیقات کرنے والے حکام نے چوتھے مشتبہ خود کش بمبار کے متعلق مزید معلومات حاصل کی ہیں۔

ان کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ جمیئکا میں پیدا ہونے والے برطانوی شہری لِنڈسے جرمین لِنڈسے تھے اور وہ بکنگھم شائر کے رہنے والے تھے۔

لندن کے شمال میں الیسبری کے ایک علاقے میں پولیس ایک گھر کی تلاشی لے رہی ہے جس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ جرمین وہاں رہے تھے۔

پولیس ابھی بھی لیڈز میں رہنے والے ایک مشتبہ خود کش بمبار کے گھر کی تلاشی لے رہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کے گھر سے ملنے والے دھماکہ خیز مواد گھریلو ساخت کا تھا اور اس طرح کا مواد اس سے پہلے کیے گئے کئی القاعدہ حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔

اس سلسلے پولیس ایک مصری کیمسٹری کے طالب علم کو تلاش کر رہی ہے جن کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ لیڈز سے فرار ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ لندن دھماکوں میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد فوجی ساخت کا تھا۔

اس سے قبل لندن بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے والے اداروں نے پہلی مرتبہ مبینہ خودکش حملہ آوروں میں سے ایک شخص کی تصویر جاری کی تھی۔

پولیس کے ترجمان نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو یقین ہے کہ اٹھائیس سالہ حسیب امیر حسین ٹیوسٹاک سکوائر میں بس میں ہونے والے دھماکے میں مارا گیا۔

پولیس
پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات وسیع ہو سکتی ہیں

اس دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی نے دھماکے سے کچھ دیر قبل حسیب کو دیکھا ہو یا اسے اس سلسلے میں کوئی معلومات رکھتا ہو تو وہ پولیس سے رابطہ کرے۔

پولیس نے اٹھارہ سالہ حسیب حسین اور بائیس سالہ تنویر شہزاد کے ناموں کی تصدیق کی ہے۔ تتنویر کے متعلق کہا گیا ہے کہ انہوں نے آلڈگیٹ ایسٹ پر ٹیوب میں حملہ کیا تھا۔

تیسرے بمبار تیس سالہ محمد صدیق خان کا تعلق مغربی یارکشائر کے شہر ڈیوسبری سے بتایا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ انہوں نے ایجویئر روڈ ٹرین پر اپنے آپ کو اڑایا تھا۔ تاہم ابھی تک پولیس کو موقع واردات سے اس کی فورینسک شہادت نہیں ملی ہے۔

66حملہ آور کون تھے
لندن بم دھماکوں میں ملوث کون اور کیا تھے۔
لیڈز سے کنگز کراس
لندن دھماکوں کی تفتیش سے کیا سامنے آیا
66دہشت کی نفسیات
جنگیں انسانی ذہنوں میں شروع ہوتی ہیں۔
66دھماکوں کا خمیازہ
لیڈز کے دہشت گرد اور ایشائیوں کی پریشانیاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد