’ہمیں تمام مدرسوں کا علم نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ تعلیم نے کہا ہے کہ ملک میں چند ایسے مدرسے ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں حکومت کو معلومات حاصل نہیں ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیِر تعلیم جاوید اشرف نے کہا کہ’ اسلام مدرسوں پر نظر رکھی جا رہی ہے لیکن سرحدی علاقوں اور پہاڑیوں میں واقع مدرسوں کے بارے میں معلومات رکھنا بہت مشکل ہے کیونکہ ایسے مدرسے رجسٹر نہیں کیے گئے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ ایسے مدرسے بھی ہوں جن کے بارے میں ہمیں بالکل معلومات نہ ہوں‘۔ جاوید اشرف نے برطانوی حکام پر زور دیا کہ وہ اس مدرسے کا نام ظاہر کریں جہاں پر شہزاد تنویر نامی خودکش حملہ آور نے تعلیم حاصل کی تھی تاکہ اس کے خلاف تحقیقات کی جا سکیں۔ اس سے قبل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ٹیلیفون پر بات کی جس میں انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کو لندن بم دھماکوں کی تفتیش کے سلسلے میں ہر ممکن مدد اور تعاون کا یقین دلایا۔ یاد رہے کہ جمعرات کو پرطانوی وزیرِ خارجہ جیک سٹرا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ پاکستان میں واقع کچھ مدرسوں کی سرگرمیوں سے پریشان ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||