مدرسے: فکری سطح پر دور جدید سے دور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں نے مدرسے میں تو تعلیم حاصل نہیں کی لیکن میں مدرسے کے لوگوں کے قریب ہوں اور کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو مدرسے میں تعلیم دیتے ہیں۔ میں نے ان کے ساتھ ان کی تعلیمات کے بارے میں گفتگو بھی کی۔ میں ایک ماہر ہونے کا دعویٰ تو نہیں کرتا لیکن مجھے پاکستان کے مدرسوں کے بارے میں تھوڑی معلومات ہیں۔ مدرسے کا نصاب چار حصوں پر مبنی ہے جو تعلیم کے آغاز کے آٹھ برسوں تک جاری رہتا ہے: فقہ، عربی، منطق، حساب، قرآن اور حدیث۔ پاکستان کے بیشتر مدرسے درسی نظام یعنی نظامی نصاب چلاتے ہیں جو لگ بھگ دو سو سال پہلے بنایا گیا تھا (لیکن مجھے اس کے آغاز کا صحیح سال نہیں معلوم ہے۔) پڑھانے کا لائحۂ عمل یہ ہے کہ پہلے آپ طالب علموں کو اردو اور عربی لکھنے اور پڑھنے کی ابتدائی تعلیم دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ قرآن یاد کراتے ہیں۔ پھر اس کے بعد عربی کا گرامر پڑھاتے ہیں: صرف اور نحو۔ تیسرے سال میں فقہ اور اس کے کلاسیفیکشن کی میتھوڈولوجی اور حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے جسے اصول الدین کہہ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ کچھ مضامین جیسے منطق اور حساب پڑھائے جاتے ہیں۔ تعلیم کے آخری دو برسوں میں طالب علموں کو دو ’دورانیے‘ مکمل کرنے پڑتے ہیں: ایک، قرآن کے بارے میں چار ماہ کا کورس اور دوسرا، حدیث کے بارے میں آٹھ ماہ کا کورس۔ اگر آپ اسلامی ذرائع اور تعلیمات کا ایک پیرامِڈ تیار کریں تو قرآن سب سے اوپر ہوگا، پھر حدیث، اس کے بعد فقہ۔ یہ ایک باٹم اپ اپروچ (نیچے سے اوپر) کی جانب پڑھانے کا طریقہ ہے جو مدرسوں میں اپنایا جاتا ہے۔ حسب ذیل نکات پر توجہ دیں: ایک، اس باٹم اپ اپروچ کا نقصان یہ ہے کہ ایک طالب علم فقہ سے، جو کہ ایک سمندر ہے، شروع کرتا ہے۔ اور اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ اسے مذہب کے حقیقی اصولوں کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا جو قرآن میں درج ہیں۔ قرآن کی تعلیم وہ اپنی تعلیم کے آخری چار یا پانچ مہینوں میں حاصل کرتا ہے۔ دو، نصاب نہ بدلنے والا ہے۔ شروع سے اب تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے لہذا اس کی وجہ سے کھلی فکر پر حدود قائم ہوجاتی ہیں اور ذہن منجمد جاتا ہے۔ تین، فقہ عہد وسطیٰ کے اسلامی اسکالروں کے ریسرچ پر مبنی ہے جنہیں بغیر کسی سوال کے فائنل سمجھ لیا جاتا ہے۔ دوسری جانب آج کی دنیا کے حالات ان حالات سے بالکل مختلف ہیں جو عہد وسطیٰ میں تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مدرسوں کے طلباء عہد وسطیٰ کے دور کی ذہنیت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں نئے دور کے تقاضوں کا اندازہ نہیں ہے۔ چار، لگ بھگ چار سو برسوں سے اسلامی اسکالروں نے اسلامی دنیا میں نئی سوچ کو بند کردیا کیوں کہ انہیں اسلام میں غیراسلامی اثرات کا خدشہ تھا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ لائحۂ عمل اس دور کے لئے ٹھیک تھا، لیکن اب اصلاحات کی شدید ضرورت ہے، ہمارے مذہب میں نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ پانچ، مدرسوں میں پڑھائے جانے والے مضامین ہوسکتا ہے کہ صحیح ہوں لیکن ان کا مواد آج کے دور کے لئے معنی نہیں رکھتا۔ منطق کی طرح مدرسے صدیوں پرانی تھیوریاں پڑھارہے ہیں لیکن منطق کی دنیا کافی تبدیل ہوچکی ہے، بالخصوص سِگمنڈ فرائیڈ کے بعد سے۔ عربی زبان و ادب پرانے طرز میں پڑھائی جارہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم عربی پڑھنے کے بعد بھی ایک صحیح مضمون نہیں لکھ سکتے ہیں۔ چھ، صرف انگریزی اور کمپیوٹر جیسے کچھ مضامین شامل کرنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ سات، پاکستان کے مدرسوں کے علاوہ اسکولوں میں بھی آزاد سوچ اور ریشنلیٹی کے لئے جگہ نہیں ہے۔ لیکن مذہب کے کیس میں ریشنلیٹی زیادہ اہم ہے کیوں کہ ہمارا مذہب ہی ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے ہماری وجود کی تشریح کا سبب ہے۔ میرے خیال میں یہی کچھ خامیاں ہیں ہمارے مدرسوں کے نصاب میں جن کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ طالب علم جو دور جدید کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے ان کے لئے دہشت گردی کے بھنور میں پھنسنے کا امکان بھی زیادہ ہوگا کیوں کہ وہ اقتصادی اور فکری سطح پر باقی دنیا سے کٹ گئے ہیں۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||