BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 July, 2005, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدارس کے منتظمین کی دھمکی

مدارس
نو ہزار سے زائد مدرسوں میں بیس لاکھ سے زائد طالب زیر تعلیم ہیں
پاکستان کے مدارس کے منتظمین نے کہا ہے کہ حکومت دینی مدارس کو تین ماہ کے اندر بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگر حکومت نے مدارس کی طرف ہاتھ بڑھائے تو وہ ہاتھ سلامت نہیں رہینگے۔

مرکز تحفظ المدارس دینینہ کی جانب سے مولانا اسد تھانوی، قاری منصور، مولانا سیف اللہ ربانی اور قاری اقبال نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چترال سے کراچی تک نو ہزار سے زائد مدرسوں میں بیس لاکھ سے زائد طالب زیر تعلیم ہیں۔

علما نے کہا کہ اس سے قبل ایوب خان کے دور حکومت میں بھی ایسی باتیں ہوئیں تھیں مگر کوئی بھی حکومت مدارس بند کرنے کی ہمت نہیں کرسکی ہے۔ ہم موجودہ حکومت سے کہیں گے ایسی حماقت کرکے ہمیں بلاوجہ امتحان میں نے ڈالے اور پاکستان کے استحکام کو داؤ پر نے لگائے۔

علما نے کہا کہ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کے مدارس کو بند کردینا مسائل کا حل نہیں ہے۔ مدارس پر دہشت گردی عسکریت کی تربیت دینے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں مگر انہیں ثابت کرنے میں پاکستان ہی نہیں دنیا ناکام ہوچکی ہے۔

علما نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس حقائق ہیں تو سامنے لائے جو بھی مدرسہ اس غیر قانونی حرکت میں پایا گیا ہم حکومت کے ساتھ مل کر اس مدرسہ کے خلاف قدم اٹھائیں گے۔

انہوں نے اسلام آباد میں لڑکیوں کے مدرسہ پر پولیس کارروائی کی مذمت کی اور الزام عائد کیا کہ لڑکیوں کو بی نقاب کرکے ان کے چہرے دکھائے گئے۔ اس سے پہلے ایسا گھناونا واقعہ پیش نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ دہماکہ لندن میں ہوتا ہے آفت پاکستان پر آتی ہے۔ اتنی گرفتاریاں لندن میں نہیں ہوتیں جتنی یہاں ہوئی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ لندن دہماکوں میں ملوث برطانوی شہریوں کی پاکستان کے کسی مدرسہ میں انرولمنٹ نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لندن میں بم دہماکہ کی وہیں تحقیقات ہونی چاہیے۔ اسلام اس عمل کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر کشمیر، عراق اور فلسطین میں ہونے والے قتل کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

مدارس کے منتظمین نے کہا ہے کہ جید علما جن کا کسی سیاسی اور مذہبی جماعت سے تعلق نہیں ہےکا قتل عرصہ دراز سے جارہی ہے۔ جن میں سے کسی ایک قاتل کے گرفتاری نہیں ہوسکی۔ لندن میں بم دھماکہ کی وجہ سے تو حکومت پاکستان میں گرفتاریاں بلاتمیز ہورہی ہیں پاکستان میں قتل ہونے والوں کے قاتلوں کو کیوں نہیں گرفتار کیا جاتا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مدارس پر چھاپے بند کئے جائیں۔ علما کو حراساں کرنا اور ان کی گرفتاریاں بند کی جائیں۔

اسلام آباد میں طالبات کو بے پردہ کرنے والے افسران کو برطرف کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مدارس کا ایک اجلاس طلب کیا جارہا ہے ۔ جس میں مزید حکمت عملی طے کی جائیگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد