گرفتاریوں پر مدارس کے طلباء کا مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو لاہور اور فیصل آباد کے دینی مدارس کے طالب علموں کی گرفتاریوں پر مدارس کے طلباء نے لاہور پریس کلب کے باہر ایک مظاہرہ کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کا اہتمام مدارس کے طلباء کی تنظیم جمعیت طلبہ عربیہ نے کیا تھا جس کے لاہور کے صدر انعام الحق نے کہا ہے کہ ہمارے مدارس سے ایک سو ستر طالب علموں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق درس و تدریس سے ہے اور جو غیر نصابی سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر گرفتار ہونے والے غیر ملکی تھے تب بھی کیا انہیں پاکستان میں رہنے کا حق نہیں؟ اور اگر نہیں تو حکومت انہیں مہلت دیتی کہ وہ واپس چلے جائیں یا ویزا حاصل کریں۔ انعام الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار شدگان میں صرف غیرملکی ہی نہیں بلکہ پاکستانی طالب علم بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ گرفتاریاں فیصل آباد کے جامعہ سلفیہ سے کی گئی ہیں اور وہاں کے ایک استاد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انعام الحق نے کہا کہ یہ گرفتاریاں مدارس میں بے جا حکومتی مداخلت ہیں۔ یہ مظاہرہ لاہور پولیس نے اس تصدیق کے بعد کیا گیا ہے کہ اس نے پچھلے ایک ہفتے میں بہت سے غیرملکیوں کو شہر سے گرفتار کیا ہے اور ان سے حراست میں تفتیش کی جارہی ہے۔ تاہم پولیس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان لوگوں کو مدرسوں سے گرفتار کیوں کیا گیا تھا۔ لاہور پولیس کے سربراہ طارق سلیم ڈوگر کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ان اطلاعات کے بعد کی گئیں تھیں کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکی باشندے جرائم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ گرفتار کیے جانے والے زیادہ تر افغان باشندے ہیں اور کچھ کا تعلق عرب اور افریقہ کے ملکوں سے ہے۔ یہ گرفتایاں پولیس، وفاقی تحقیاتی ادارہ ایف آئی اے اور منشیات کی روک تھام کے ادارہ اے این ایف نے مل کر کیں۔ ان گرفتار کیے جانے والوں کو غیرملکیوں کے لیے ’فارن ایکٹ‘ کے قانون کے تحت پکڑا گیا ہے اور بعض کو کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا۔ ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ پولیس کو تمام غیرملکی باشندوں کی رجسٹریشن کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پولیس مختلف علاقوں میں پراپرٹی ڈیلروں سے رابطہ کرکے ان سے کہے گی کہ غیرملکیوں کو رجسٹریشن کے بغیر مکان کرائے پر نہ دلوائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||