BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدارس کے طلبا یا قربانی کی بھیڑیں

دارالعلوم حقانیہ کے طلباء
طلباء کی بہت بڑی تعداد حصول علم کے لئے مدارس کا رخ کرتی ہے۔

پاکستانی حکام نے مدرسوں پر چھاپے مارکر بہت سے طلبا کو گرفتار کرلیا ہے اور بھیڑوں سے لدے ایک جہاز کو پاکستان آنے سے روکدیا ہے۔

طلبا اور بھیڑوں کا یہ تعلق خاصا پرانا ہے۔

یہ چند سال پہلے کی بات ہے راولپنڈی میں ایک مذہبی جماعت کے دفتر کے سامنے ایک ٹرک آکر رکا۔ اس میں بہت سے نوجوان طلبا سوار تھے۔ ملک کے مختلف حصوں سے آئے یا لائےگئے یہ طلبہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد میں حصہ لینے کے متمنی تھے۔ یہاں سے ان طلبہ کو تربیت کے لئے مختلف کیمپوں میں بھیجا جانا تھا اور وہاں سے یہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کے لئے مختلف محاذوں پر بھیجے جانے تھے۔

سوویت یونین کے خلاف یہ جہاد امریکہ نے شروع کیا ہوا تھا، پوری شدومد سے۔

پاکستانی نوجوان اور طلبہ اس جہاد میں افغان مجاہدین کے شانہ بشانہ لڑرہے تھے، مررہے تھے اور شہید ہورہے تھے۔ یعنی اس وقت انہیں شہید کہا جارہا تھا۔ اور امریکہ انہیں شاباشی دینے والوں میں سب سے آگے تھا۔

بھیڑیں
پاکستان نے بیمار آسٹریلوی بھیڑوں کو لینے سے انکار کر دیا ہے

اس دن راولپنڈی میں ایک مذہبی جماعت کے دفتر کے سامنے ٹرک میں بھرے سفید کپڑوں میں ملبوس یہ معصوم سے نوجوان مجھے بھیڑ لگے جنہیں کٹنے کے لئے تیار کیاجارہا تھا، آگے بھیجا جارہا تھا۔ ان نوجوانوں کو اپنی جان کی پرواہ نہیں تھی۔ یہ ننھے مجاہد شوقِ شہادت اورجذبہ جہاد سے سرشار تھے اور سوویت یونین کے خلاف لڑنا چاہتے تھے۔ ان میں سے کئی شہید ہوگئے ہونگے۔

مر کٹنے کے لئے تیار

 اس دن راولپنڈی میں ایک مذہبی جماعت کے دفتر کے سامنے ٹرک میں بھرے سفید کپڑوں میں ملبوس یہ معصوم سے نوجوان مجھے بھیڑ لگے جنہیں کٹنے کے لئے تیار کیاجارہا تھا، آگے بھیجا جارہا تھا۔

ادریس بختیار

اور پھر چند برس بعد صورتحال تبدیل ہوگئی۔ کل جن نوجوانوں سے سوویت یونین کے فوجیوں کی گردنیں کٹوائی جارہی تھیں آج ان کی اپنی گردنیں کاٹی جارہی ہیں۔ان مجاہدوں کو جنہیں امریکہ کی شہ پر اوراس کی خاطر جہاد کی اور جنگ کی تربیت دی گئی تھی دہشت گرد قرار دیدیا گیا، امریکہ کی شہ پر ۔ ان میں سے جو شہید ہوگئے، جن خاک نشینوں کا خون رزقِ خاک ہوگیا ان کا اب کیا تذکرہ۔ جو بچ گئے ان کی اپنی جان کے لالے پڑگئے ہیں۔

امریکہ کی شہ پر پاکستانی حکام نے انہیں دہشت گرد مانا اورمختلف مدرسوں پر چھاپے مارکر انہیں گرفتار کرلیاگیا۔کل وہ بھیڑوں کی طرح ٹرکوں پربھر کر لائے جاتے تھے آج انہیں کونے کھدُروں میں تلاش کیا جارہا ہے۔

کوئی یہ نہیں بتاتا کہ کل جب پاکستانی حکام نے اور مذہبی جماعتوں نے انہیں جہاد پر بھجنے کے لئے، اپنی جان دینے کے لئے تیار کیا تھا تو وہ کیا تھا؟ سوویت یونین کے خلاف ہم نے کس کی جنگ لڑی اوراس کا ہمیں کیا صلہ ملا؟۔ امریکہ کو کل ملحد کمیونسٹ افغانستان میں پسند نہیں تھے۔ اس کے لئےاس نے مذہب کی آڑ لی تھی۔ آج اسے مذہبی لوگ پسند نہیں ہیں۔ اب وہ ان کے خلاف ہے اور اس کی اس دوسری جنگ میں بھی ہم اس کے شریک ہیں۔ کوئی بتائے ہمیں اس جنگ کا کیا صلہ ملے گا؟

راولپنڈی میں ایک مذہبی جماعت کے دفتر کے سامنے ٹرک میں بھرے نوجوان طلبہ مجھے ہمیشہ بھیڑ لگے اس جہاز میں بھری بھیڑوں کی طرح جنہیں پاکستان آنے سے روکدیا گیا ہے۔ بھیڑوں پر سرحد پارکرنے کی یہ پابندی کاش پہلے، بہت پہلے لگادی گئی ہوتی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد