BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 July, 2005, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدرسے: غیر ملکیوں کو نکال دیا جائیگا

صدر مشرف
صدر مشرف نے کہا ہے جو مدرسہ رجسٹریشن نہیں کرائے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کے مدرسوں میں پڑھنے والے تمام غیر ملکی طالبعلموں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے ان غیر ملکیوں کی تعداد چودہ سو بتائی ہے۔ اس کے علاوہ صدر کا کہنا ہے کہ تمام مدارس کی رجسٹریشن کی جائے گی اور جو مدرسہ رجسٹریشن نہیں کرائے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

جنرل پرویز مشرف نے راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت گذشتہ ہفتے ملک میں کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف آپریشن میں سنجیدہ ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان تنظیموں کے عام کو پکڑنے کی بجائے اہم لوگوں کو پکڑیں۔

صدر نے اپنی پریس کانفرنس میں لندن بم دھماکوں کے تناظر میں پاکستان میں چند گرفتاریوں کی تصدیق تو کی ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان دھماکوں میں کسی کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا ہے۔

جنرل مشرف نے کہا ہے کہ تمام ممالک کو آپس میں انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ کرنا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گرد کارروائی کو روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں القاعدہ کی مرکزی طاقت کو ختم کر دیا ہے اور خاص طور پر ابو فراج اللبی کی گرفتاری کے بعد پتہ چلا ہے کہ القاعدہ روابط کے لیے کوریئر سروس کا استعمال کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم اس کوریئر نیٹ ورک میں داخل ہو گئے ہیں اور ابو فراج سے امریکی انٹیلیجنس حکام کی تفتیش کے بعد پتہ چلا ہے کہ ابو فراج کو القاعدہ کی مرکزی قیادت سے رابطے میں دو سے تین مہینے کا وقت لگتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ درست نہیں ہے کہ اس صورتحال میں القاعدہ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن اورایمن الزواہری ان دہشت گردی کے واقعات کے واقعات میں ملوث ہوتے اور ان کے روابط دنیا بھر میں ہوتے تو پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں ان کو گرفتار کر چکی ہوتیں۔

صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں القاعدہ ایک فلسفہ بن گئی ہے اور کوئی بھی تنظیم القاعدہ کا نام لے کر دہشت گردی کی کارروائی کی ذمہ داری القاعدہ پر ڈال دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی مذہبی تو ہے مگر وہ اعتدال پسند بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹی سی اقلیت جیش، لشکر اور سپاہ کے نام پر ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد