مدارس رجسٹریشن اگلے ہفتے سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت اگلے ہفتے سے ملک بھر میں مدارس کی رجسٹریشن کی مہم کا آغاز کرے گی۔ اس سلسلے میں مدارس کی تنظیم کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم شوکت عزیز کی طرف سے قائم کردہ مدارس اصلاح بورڈ کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے اور دینی مدارس کو عمومی اور مبہم انداز میں دہشت گردی، شدت پسندی، انتہا پسندی اور عسکری تربیت کے الزامات ہدف نہ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ مدارس نے حکومت کی طرف سے انتہا پسندی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو بھی فی الفور بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں مدارس کی تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق کے درمیان انتہا پسندی کے خلاف حکومتی مہم اور مدارس کی رجسٹریشن پر مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام مدارس کے منتظمین نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ وہ دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف ہیں اور وہ اس کے خاتمے کے لیے حکومت سے مکمل تعاون کریں گے۔ اعجـاز الحق نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے بارے میں قانون میں ترمیم کی جائے گی اور صدر جنرل پرویز مشرف کی ہدایات کے مطابق ان کو اس سال دسمبر تک رجسٹر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں گیارہ ہزار آٹھ سو مدارس ہیں جن میں سے پانچ ہزار سے زائد رجسٹرڈ ہیں۔ اعجاز الحق سے جب یہ پوچھا گیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف خود کئی مرتبہ کہ چکے ہیں کہ کچھ مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں تو اس پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس بات کا علم انہیں نہیں ہے اور ان کے خیال میں مدارس میں عسکری تربیت نہیں دی جا رہی۔ وفاقی وزیر نے ان الزامات کی تردید کی کہ لندن بم دھماکوں میں ملوث خودکش بمباروں کو پاکستان کے مدارس میں برین واش کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ ادھر تنظیمات مدارس کے عہدیداران نے ان مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی رائے میں پاکستان کی سٹیبلشمنٹ میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو حکومت اور صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ دینی قوتوں اور مدارس کی براہ راست محاذ آرائی اور تصادم چاہتے ہیں۔ تنظیمات مدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن نے اس موقع پر کہا کہ انھوں نے حکومت سے بارہا کہا ہے کہ اگر کوئی مدرسہ کسی غیر قانونی کارrوائی میں ملوث ہے تو مدارس کے اتحاد کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے اور ان کے نام ظاہر کیے جائیں تاکہ تنظیمات مدارس اس مدرسے کے خلاف ایکشن لے۔
حکومت اور مدارس کے درمیان حالیہ بات چیت کے دور میں کوئی ایسی بڑی بات سامنے نہیں آئی ہے جس سے فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا قائم نہ ہو۔ آج تنظیمات مدارس کے عہدیداران اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن بھی گئے اور وہاں جا کر لندن بم دھماکوں کی مذمت کی اور لندن بم دھماکوں کو انسانیت اور اسلام کے خلاف کارروائی قرار دیا۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انفرادی جرائم کو مذہب، قوم اور کسی ملک کے ساتھ منسوب نہ کیا جائے بلکہ جرم کو صرف جرم اور مجرم کو صرف مجرم سمجھا جائے۔ ادھر وفاقی وزیر برائے داخلہ آفتاب شیر پاؤ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے کریک ڈاؤن میں تقریبا چھ سو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انھوں نے ان اطلاعات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا جس کے مطابق ان میں سے کئی افراد کو رہا کیا جا چکا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||