BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 July, 2005, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جہاد آخر ہے کیا؟

 جامعہ بنوریہ کے طلباء
جامعہ بنوریہ کے متعدد طلباء شدت پسند تحریکوں میں شامل رہ چکے ہیں۔
پاکستان کے سرکردہ مسلم علماء کا کہنا ہے کہ نوجوان مسلمانوں کو جہاد کا اصل مقصد سمجھانا ان کے لیے دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مفتی رفیع عثمانی کراچی کے دارالعلوم کے سربراہ ہیں۔ ان کے مدرسے کو پاکستان کے مذہبی تعلیمی اداروں میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔

مفتی رفیع عثمانی کا کہنا تھا کہ ’ عراق، فلسطین اور افعانستان کے حالات نوجوان نسل کو شدت پسند بنا رہے ہیں اور یہ غصیلے نوجوان کسی کے قابو میں نہیں ہیں‘۔

انہوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ اسلام کسی بھی صورت میں معصوم اور نہتے شہریوں کی جان لینے کے اجازت نہیں دیتا‘۔

اس سوال کے جواب مںی کہ جہاد کا نظریہ کیا ہے مفتی عثمانی کا کہنا تھا’ جہاد تمام مسلمانوں پر فرض نہیں اور اس کے لیے صرف مخصوص حالات میں ہی لوگوں کو بلایا جا سکتا ہے‘۔

مسلم علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جہاد کی وجہ بننے والے حالات اور جہادیوں کا رویہ ہی اس نظریے کے بنیادی اصول ہیں۔

 ’ ناراض نوجوان مسلمان اس نظریے سے مطمئن نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اندر پکتے لاوے کو باہر نکالنے کے لیے ایسے علماء سے فتوٰی حاصل کرتے ہیں جن کی مذہبی حیثیت مشکوک ہے‘
مفتی اکرم کشمیری

بی بی سی کی جانب سے کیے گئے انٹرویوز میں پاکستان کے تین سرکردہ علماء کا متفقہ طور پر کہنا تھا کہ جہاد کا اعلان صرف مذکورہ صورتوں میں ہی کیا جا سکتا ہے۔

1۔ اگر کسی مسلم آبادی پر حملہ ہو تو اس آبادی کے تمام مسلم مرد و زن پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔

2۔ اگر وہ آبادی یہ محسوس کرے کہ وہ اس حملے کا اپنے طور پر مقابلہ نہیں کر سکتی تو نزدیکی مسلم آبادیوں پر جہاد کا فرض لاگو ہوتا ہے۔

3۔ اگر کسی مسلم ملک کا حکمران جہاد کی کال دے تو اس ملک کے باسی مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ جہاد میں حصہ لیں۔

مفتی عثمانی کا کہنا تھا کہ ان حالات میں بھی صرف ان مسلمانوں پر جہاد فرض ہوتا ہے جو اس آبادی کے دفاع کے لیے کافی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر پاکستان پر حملہ ہو اور ملکی فوج دفاع کے لیے کافی ہو تو شہری آبادی پر جہاد فرض نہیں ہوتا‘۔

جہاد کا دوسرا اصول جہادیوں کے رویے سے متعلق ہے۔ علماء کا کہنا تھا کہ کسی بھی حالت میں مسلمان جہادیوں کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ عورتوں ، بچوں، بوڑھوں، کمزوروں، بیماروں، عبادت میں مصروف افراد اور شہریوں پر حملہ کریں۔

مسلمان شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ جب معصوم مسلمان حملوں میں مارے جاتے ہیں تو مسلمانوں کو بھی جواباً دشمن ممالک کے نہتے شہریوں پر حملہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

علماء اس نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام ایک غلطی کا جواب غلطی سے دینے کا درس نہیں دیتا۔ مفتی عثمانی کا کہنا تھا کہ ’ اسلام کا حکم اس مسئلے پر واضح ہے کہ دو غلط مل کر ایک صحیح نہیں ہو سکتے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ اگر یہ سوچتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ معصوم افغان اور عراقی شہریوں کو مار رہے ہیں تو یہ سوچ انہیں بات کا حق نہیں دیتی کہ یہ نیویارک اور لندن میں معصوم شہریوں کو قتل کریں‘۔

کراچی کی جامعہ بنوریہ کے متعدد طلباء شدت پسند تحریکوں میں شامل رہ چکے ہیں۔ کالعدم شدت پسند تحریک جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر بھی اس ادارے سے وابستہ رہ چکے ہیں۔

News image
ناراض نوجوان مسلمان جہاد کے نظریے سے مطمئن نہیں ہیں

جامعہ بنوریہ کے سربراہ ڈاکٹر سکندر کا کہنا ہے کہ اسلام کا نظریہ ان مسلمانوں کے لیے واضح ہے جو ایک غیر مسلم ملک میں رہائش پذیر ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ اگر وہ ملک جہاں یہ مسلمان رہتے ہیں کچھ غلط کر رہا ہے تو انہیں وہاں سے ہجرت کر جانی چاہیے۔

اسلام کسی بھی صورت میں معصوم اور نہتے شہریوں کی جان لینے کے اجازت نہیں دیتا
مفتی رفیع عثمانی

انہوں نے کہا کہ ’مثلاً لندن میں رہنے والا ایک عراقی جنگ میں برطانیہ کے کردار پر ناراض ہے تو اسے عراق جا کر اتحادی افواج کے خلاف جنگ میں شریک ہونا چاہیے۔ کوئی بھی اسے یہ حق نہیں دیتا کہ وہ برطانیہ میں رہنے والے معصوم شہریوں کی جان لے‘۔

پاکستانی علماء کا کہنا ہے کہ اس نظریے کی بنیاد اسلام کا ایفائے عہد کا اصول ہے۔

مفتی عثمانی کا کہنا تھا کہ ’ جب ایک مسلمان ایک مغربی ملک جاتا ہے یا وہاں کا شہری ہے تو وہ اس ملک کے قانون کی پاسداری کا پابند ہے۔ اسلام ایفائے عہد کا سختی سے حکم دیتا ہے اور حالتِ جنگ میں بھی وعدہ توڑنے کا حکم نہیں دیتا‘۔

لاہور کی جامعہ اشرفیہ ایک ایسا مدرسہ ہے جس کے طلباء متعدد اسلامی ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

اس ادارے کے سربراہ مفتی اکرم کشمیری کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں علماء اور مشائخ کے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے کہ وہ نوجوان نسل کو جہاد کا اصل مفہوم سمجھا سکیں۔

News image
جامعہ اشرفیہ کے سربراہ مفتی اکرم کشمیری

ان کا کہنا تھا کہ ’ ناراض نوجوان مسلمان اس نظریے سے مطمئن نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اندر پکتے لاوے کو باہر نکالنے کے لیے ایسے علماء سے فتوٰی حاصل کرتے ہیں جن کی مذہبی حیثیت مشکوک ہے‘۔

یہ علماء اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دہشت گردی کا حل مسلم امہ یا علماء کے ہاتھ میں نہیں ہے۔

پاکستان کے علماء نے گفتگو میں مغربی دنیا پر بھی زور دیا کہ وہ ایسے تمام مسائل کا حل تلاش کریں جن کا تعلق امتِ مسلمہ سے ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ان مسائل کی جڑ کا خاتمہ کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد