امریکی خوشنودی: پاکستان کیا کرے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ان دنوں شدید تنقید کی زد میں ہے۔ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں بھی اسلام آباد پر تنقید کی بندوق تانے ہوئے ہیں۔ ہر طرف سے تابڑ توڑ حملے ہیں۔ ہر قسم کا دفاع اور یقین دہانیاں بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔ تلخیاں ہیں اور کچھ نہیں۔ اس تازہ تلخی کا آغاز امریکہ کے افغانستان میں سفیر زلمے خلیل زاد کے اس بیان سے ہوا جس میں انہوں نے طالبان رہنما ملا محمد عمر اور اسامہ بن لادن کے پاکستان میں موجود ہونے کے دعوے کو دہرایا۔ ان کا بیان پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سے طالبان رہنما کے انٹرویو کے بعد آیا جس میں ان کا موقف تھا کہ اگر ایک رپورٹر کی طالبان تک رسائی ہے تو پاکستانی خفیہ اداروں کی کیوں نہیں۔ ابھی الفاظ کی یہ جنگ جاری تھی کہ افغانستان نے تین پاکستانیوں کی گرفتاری کی خبر آ گئی جو افغان حکام کے مطابق افغانستان میں امریکی سفیر کو ہی ’ٹھکانے‘ لگانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ شکل سے تو یہ تین نوجوان کسی اتنی بڑی سازش کے تیار کرنے والے معلوم نہیں ہوتے لیکن اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق یا تردید کرانا تقریبا ناممکن ہے۔ افغان حکام کے مطابق جہادی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ان پاکستانیوں نے فورا امریکی سفیر کو قتل کرنے کی سازش کا اعتراف بھی کر لیا۔ حلیے سے تو وہ جہادی بالکل نظر نہیں آتے۔ نہ داڑھی نہ ٹوپی۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہادی تنظیموں کے پاس ’کمیٹڈ‘ ارکان کی کمی پیدا ہوگئی ہے جو اس قسم کے افراد اتنی بڑی سازش کے لیے روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد امریکی مرکزی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے کے سربراہ پورٹر گوس نے یہ اعتراف کیا کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے اسامہ کہاں ہیں لیکن ان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چند کمزور کڑیاں ہیں جن کی وجہ سے وہ ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔ اس کڑی سے کیا مراد تھی یہ واضح نہیں لیکن عام تاثر یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا پاکستان ہراول دستے کے طور پر فرض ادا کر رہا ہے اور افغانستان بھی اس میں شامل ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اس ’کمزور کڑی‘ سے مراد پاکستان ہے یا نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اسامہ کے ایک دوسرے کے علاقے میں موجودگی پر الزامات کا تبادلہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد سے اپنی پوری تلخیوں کے ساتھ مسلسل جاری ہے۔ امریکہ یہ ساری صورتحال ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھتا چلا آ رہا ہے اور جب بھی دونوں ہمسایہ ممالک میں صورتحال تھوڑی بہتر ہوتی ہے وہاں موجود امریکی مندوب پھر آگ لگا دیتے ہیں۔ پاکستان کو اطمینان ہوگا زلمے خلیل زاد تو اب سبکدوش ہو رہے ہیں اور زیادہ خطرناک علاقے عراق کا رخ کر رہے ہیں لیکن آیا ان کے پیش رو نیومین کا رویہ مختلف ہوگا یا نہیں یہ کہنا کوئی اتنا مشکل نہیں۔ ہاتھ میں چابک لیے ہر امریکی سفیر کو کابل میں ’وائسراے‘ کا خطاب ملتا رہا ہے۔ تو جو بھی آیا اور اس نے جو بھی کہا عام تاثر یہی ہے کہ اسے امریکی حکومت کی اس سلسلے میں مکمل حمایت حاصل رہی ہے۔ یہ صرف زلمے کی بات نہیں۔ پاکستان اس تمام تنقید اور بداعتمادی کو مسترد کرتا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہے تو دوسروں کو اس کا یقین کیوں نہیں آ رہا۔ آخر مشکل کیا ہے اور بداعتمادی کی جڑ ہے کہاں؟ قیاس یہی ہے کہ امریکہ کو یقین ہے کہ اسامہ پاکستان میں ہی ہے تب ہی وہ نام لیے اور ناراض کیے بغیر اس پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ سی آئی اے کا بیان اسے سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ اگر اسامہ افغانستان میں ہوتا تو اسے پکڑنے میں امریکہ کو ایک ’خود مختار‘ ریاست کے حائل ہونے کا مسئلہ بھی شاید نہ ہوتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان جو بھی کرلے، اپنے سینکڑوں فوجی وزیرستان میں ہلاک کروا لے اور چھ سو سے زائد طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ ارکان کو پکڑ کے امریکہ کے حوالے کر دے امریکہ اور افغانستان کا مکمل اعتماد پھر بھی حاصل نہیں کر سکے گا۔ تو آخر پاکستان کو امریکہ اور افغانستان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے مزید اور کیا کرنا ہوگا؟ اس پر پاکستان میں یقینا سوچ بچار ہو رہا ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||