’مسئلہ زندگی کی بھیک نہیں‘ طالبان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان مصالحتی کمیشن کی طرف سے ملا عمر سمیت طالبان کو عام مشروط معافی پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان مفتی لطف اللہ نعیمی نے کہا ہے کہ طالبان کا مسئلہ زندگی کی بھیک نہیں۔ افغانستان مصالحتی کمیشن کے سربراہ صبغت اللہ مجددی نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے تمام ایسے جنجگو جو افغانستان کے موجودہ آئین کو تسلیم کرتے ہو ئے ہتھیار پھینک دیں انہیں معافی مل سکتی ہے۔ بی بی سی سے انٹرویو کے دوران طالبان کے ترجمان لطف اللہ حکیمی نے اس پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے نے کہا کہ ’جہاں تک صبغت اللہ مجددی کی جانب سے معافی کے اعلان کا تعلق ہے تو ہم ان سے کہیں گے کہ وہ تجاہلِ عارفانہ چھوڑ کر واضح طور پر بتائیں کہ انہوں نے چودہ سال تک سابق سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کی قیادت کی اور عبوری حکومت میں نائب صدر بھی تھے تو کس لیے تھے؟ طالبان کا اصل مسئلہ زندگی کی بھیک مانگنا یا کرسی کی لڑائی لڑنا نہیں ہے اور طالبان عالمی استعمار کے خلاف ایک عالمی فکر کا نام ہے۔‘ افغانستان کی ترقی کے تناظر میں معافی کو قبول کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’اصل معاملہ یہ نہیں ہے بلکہ امریکیوں اور موجودہ حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں اسلامی تصورات کو ختم کر کے مغربی اقدار کو لایا جائے اور اسلامی اقدار کو بدنام کیا جائے۔ صبغت اللہ مجددی نے ہمارے اور حکومت کے درمیان مسئلے کو سمجھا نہیں ہے۔ جب وہ مسئلہ سمجھ لیں گے تو اس کا حل بھی بتا سکیں گے، امریکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا امریکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد وہ افغان حکومت سے تعاون کرنے کے بارے میں سوچیں گے انہوں نے کہا کہ ’مسئلہ محض اتنا نہیں ہے۔ اگر امریکیوں کے جانے کے بعد افغان حکومت کے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی جیسے کہ سوویت یونین کے جانے کے بعد نجیب اللہ حکومت اسی راستے پر چل رہی تھی تو ہمارا جہاد اس کے خلاف بھی تھا اور ہمارا جہاد قیامت تک ہو گا، اس وقت تک جب تک کہ امریکی فوجی افغانستان سے چلے نہیں جاتے اور حکومت ہمارے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتی اس کے بعد مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘ سابق طالبان وزیرخارجہ ملّا متوکل کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ متوکل صاحب کی رائے ایک آزاد آدمی کی رائے نہیں ہے انہیں اب بھی افغانستان مظالم کا سامنا ہے اور دوسری بات یہ کہ ان کے خیالات ان کے ہیں اور ہماری اپنی پالیسی ہے۔ ملا متوکل نے اس انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ کسی حد تک افغان حکومت کے اصلاحاتی اقدامات سے مطمئن ہیں اور یہ کہ حالات غیر ملکیوں کے آنے سے خراب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا ’جیسا کے میں پہلے کہا ہے کہ طالبان اب ایک فکر کا نام ہے اور یہ فکر منظم ہے اور جب کوئی مسئلہ ہوتا ہے ہم اس کا شوریٰ کے مشورے سے فیصلہ کرتے ہیں اور ہماری نظر میں واحد حل افغانستان میں جہاد کو جاری رکھنا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ نے جو اس وقت کہہ رہے ہیں اس کے بارے میں ملّا عمر سے مشورہ کیا ہے انہوں نے کہا: ’جناب میں نے امیرالمومنین کے نائب الحاج ملّا عبید اللہ سے مشورہ کیا ہے اور یہی ہماری شوریٰ کا بھی کہنا ہے۔‘ اس سوال کے جواب میو کہ ’تو اس کا مطلب ہے کہ آپ مکمل طور پر فعال اور منظم ہیں جبکہ آپ کے مخالفین کا یہ کہنا ہے کہ آپ ختم ہو چکے ہیں؟‘ انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم ختم ہو چکے ہیں تو پھر روز جو یہ امریکی مارے جا رہے ہیں اور حکومتی اہلکار قتل ہو رہے ہیں تو انہیں کون قتل کر رہا ہے؟‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||