 |  گزشتہ نومبر کے بعد چھاپہ مار حملوں میں خاصی کمی آئی ہے |
افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں مبینہ طور پر طالبان کے مسلح ارکان نے چھ سرکاری فوجیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ مقامی سرکاری اہلکار محمد ولی نے بتایا ہے کہ فوجیوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں نہر کے قریب سے ملی ہیں۔ طالبان تنظیم کے ترجمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ افغان اور امریکی فوجیں ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں طالبان کے بچ جانے والے جنگجوؤں سے اب بھی برسرِ پیکار ہیں۔ ان علاقہ جات کو پوست کی کاشت کا مرکز کہا جاتا ہے۔ سنہ دو ہزار ایک میں امریکی فوج کے ہاتھوں سخت گیر اسلامی نظریات کی حامل انتظامیہ کے خاتمے کے بعد طالبان نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغان حکومت اور اس کے مغربی اتحادیوں سے جنگ کریں گے۔ تاہم گزشتہ نومبر کے صدارتی انتخابات میں حامد کرزئی کی فتح کے بعد چھاپہ مار حملوں میں خاصی کمی آ گئی ہے۔ محمد ولی کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ میں یہ پہلا موقع ہے جس میں اتنی تعداد میں ہلاکتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سپاہیوں سے بھری ایک فوجی گاڑی کو ہلمند میں گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اگست دو ہزار تین سے اب تک مشتبہ طالبان چھاپہ ماروں سے ہونے والی جھڑپوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ |