’فوجیوں کی ہلاکت کا علم نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان نے پاکستان افغان سرحد پر جھڑپ میں مرنے والے افغان فوجیوں کی ہلاکت پر لاعلمی کا اظہار کیاہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود اتحادی فوج سے اس واقعے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ دو اور تین جنوری کو افغانستان کی سرحد کے اندر سے نا معلوم افراد نے پاکستانی فوجیوں پر فائرنگ کی ہے جس میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی افواج نے اپنے دفاع میں جوابی کاروائی کی جس کے بعد سے فائرنگ رک گئی۔ ترجمان کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سرحد کے اس پار پاکستانی افواج کی فائرنگ سے کیا نقصان ہوا ہے۔ واضح رہے کہ آج پاکستانی اخبارات میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس جھڑپ میں پندرہ افغانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایک امریکی جاسوس طیارہ پاکستانی سرحد پر گر کر تباہ ہو گیا۔ ادھر فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تین جنوری کے واقع کے بعد سے علاقے میں امن ہے اور کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔ فوج کے ترجمان نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ اس معمولی واقع کو سرحدی جھڑپ کا تاثر نہ دے اور واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے سے گریز کرے۔ ترجمان کے مطابق اس طرح کی رپورٹنگ سے غیر معمولی تشویش پھیلتی ہے اور اس سے مختلف آرا جنم لیتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||