امریکی، پاکستانی، افغان لڑ پڑے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام نے شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب افغان فوج کی فائرنگ اور شیلنگ سے ایک سپاہی کے ہلاک جبکہ دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ یہ واقعہ اتوار کے روز ایک بغیر پائلٹ کے چلنے والے امریکی جاسوس طیارے کے گرنے کے بعد اس کے ملبے پر تنازعہ کی وجہ سے پیش آیا۔ بغیر پائلٹ کے خودکار امریکی جاسوس طیارہ اتوار کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی پہاڑی علاقے سیدگئی کے گاؤں غلام خان کلی کے قریب گرا تھا۔ پاکستانی نیم فوجی ملیشیا ٹوچی سکاؤٹس واقعہ کی تحقیقات کے لیے اس دور افتادہ پہاڑی علاقے میں پہنچے تو سرحد پار سے آئے ہوئے امریکی اور افغان فوجیوں کے ساتھ ملبہ لے جانے کے مسئلہ پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔ علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی فوجیوں نے جانے سے پہلے طیارے کے بچے کھچے ٹکڑے بم سے تباہ کر دیے۔ ان کے لوٹنے کے کچھ دیر بعد سرحد پار سے مارٹر گولوں کی فائرنگ شروع ہوئی جس سے ٹوچی سکاؤٹس کا ایک سپاہی شاہ حسین ہلاک جبکہ دو اور زخمی ہوگئے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے سرحد پار سے دو درجن سے زائد مارٹر گولے داغے جانے کی تصدیق کی اور کہا کہ پاکستانی دستوں نے بھی جوابی کارروائی کی ہے۔ ان کے مطابق ابھی صورتحال واضح نہیں کہ گولے کس نے داغے ہیں۔ پاکستانی اور افغان سیکورٹی دستوں کے درمیان تنازعہ کی ایک اور وجہ سرحد کے بارے میں ابہام بھی تھا۔ خیال ہے کہ کئی امریکی جاسوسی طیارے پاکستان میں شمالی اور جنوبی وزیرستان جبکہ سرحد پار پکتیا اور پکتیکا کے علاقوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ طیارہ گرنے کی وجہ واضع نہیں لیکن خیال ہے کہ یہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے گرا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||