BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 March, 2005, 05:07 GMT 10:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کباب مت کھاؤ قتل ہو جاؤ گے
شیریں گل
شیریں گل
افغان دارالحکومت کابل کے نواح میں سوویت دور کی یادگار پلِ چرخی جیل میں انتہائی سنگین جرائم کی ملزم اپنے خلاف مقدمہ شروع کیے جانے کا انتظار کر رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شیریں گل نامی یہ خاتون اپنے محبوب اور اٹھارہ سالہ بیٹے کے ساتھ مل کر ستائیس افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کر چکی ہے۔

اگر شیریں گل پر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو وہ متعدد قتل کرنے والی خواتین میں ایک نامی گرامی عورت بن جائے گی۔

جون دو ہزار چار میں پولیس نے کابل کے قریب ایک تاجر کی برہنہ لاش ملنے کے بعد شروع کی جانے والی تحقیقات کےدوران افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں شیریں گل کے سابق مکان کے صحن سے اٹھارہ لاشیں برآمد کیں جب کے چھ لاشیں کابل ہی کے ایک مقام سے برآمد کی گئیں۔

اس کے علاوہ شیریں گل کے ساٹھ سالہ سابق شوہر کی لاش بھی اس کے جلال آباد کےگھر سے ہی برآمد کی جا چکی ہے۔

اس کے علاوہ ایک لاش افغانستان کے لوگر صوبے سے برآمد کی گئی ہے۔ اس قتل کا مجرم اس کا محبوب رحمت اللہ ہے جسے اس جرم میں سترہ سال کی سزا ہو چکی ہے۔

ان تمام لوگوں کوگلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اس مقدمے کی تحقیقات کی نگرانی کرنے والے افغانستان کے نیشنل سکیورٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد ظاہر ناہم کا کہنا ہے کہ ’وہ قتل کی تمام وارداتوں کا اعتراف کر چکی ہے اور ہمارے پاس اس کے اعترافی بیان کے ویڈیو ٹیپ ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ پیشہ ور قاتل ہیں اور قتل کی ان وارداتوں پر شیریں اور اس کے ساتھیوں کو ندامت نہیں۔

جیل میں جب شیریں سے ملاقات کی گئی تو اس نے اس سے صاف انکار کر دیا کہ اس نے کوئی اعتراف کیا ہے۔ اس نے کہا ’اگر وہ مجھے پھانسی لگا دیں تب میں ان جرائم کا اعتراف نہیں کروں گی‘۔

شیریں کا کہنا تھا ’ہاں مجھے پتہ تھا کہ صحن میں لاشیں دبی ہوئی ہیں لیکن نہ تو میں نے انہیں دیکھا تھا اور نہ ہی میرا ان میں کوئی ہاتھ تھا۔‘

اس نے اس بات کا اعتراف کیا کےاس کے محبوب رحمت اللہ نے اس کے سابق شوہر کو قتل کیا تھا لیکن اس کا کہنا تھا کہ اس نے اس کے مدد اس لیے کی تھی کہ اس کا شوہر جب سے ان کے شادی ہوئی تھی اسے مارتا پیٹتا رہتا تھا۔

شیریں کا کہنا تھا’ رحمت اللہ ایک اچھا آدمی ہے اور ہم ایک خاندان کی طرح ہنسی خوشی رہ رہے تھے‘۔

اس نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ رحمت اللہ ڈرائیوروں کے قتل میں شامل تھا لیکن اس میں اور لوگ بھی شامل تھے اور اصل لوگ تو وہ تھے۔

اس کا کہنا تھا ’رحمت اللہ قاتل نہیں ہے۔ میں نہیں دیکھا کے اس نے کسی کو قتل کیا ہو۔ اس انتہائی منت سے کہا کہ کوئی اس کا پیغامِ محبت رحمت اللہ تک پہنچا دے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو قتل کیا گیا تھا ان کی اکثریت ٹیکسی ڈرائیور تھے۔ اور انہیں یہ لوگ چائے اور کباب کی دعوت دیتے تھے اور افغانستان کے جنوبی و مشرقی علاقوں میں اس طرح کسی کو دعوت پر بنلانا اور چائے اور کباب کی پیشکش کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ کبابوں میں شدید نشہ آور دوا ملا دیتے تھے اور اس نے اس نشہ آور شے کی بڑی مقدار ملزمان کے گھر سے برآمد کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تمام لوگوں کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا اور پھر زمین میں ڈیڑھ گز کی گہرائی میں دفن کیا گیا۔ جن لوگوں کی لاشیں برآمد کی گئئ ہیں ان میں میں سے اب تک صرف پانچ کی شناخت ہو سکی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ڈرائیوروں کو قتل کر کے ان کی ٹیکسیاں پاکستان کی سرحد پر لے جا کر بیچ دیتے تھے اور میران شاہ نامی سرحدی شہر میں یہ ٹیکسیاں دس ہزار امریکی ڈالر میں فروخت ہو جاتی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شروع کی وارداتوں میں شیریں کا پہلا شوہر محمد اعظم ایک دوسرے کے شریک تھے لیکن جب شیریں اور رحمت اللہ ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہوئے تو محمد اعظم کا قتل ہو گیا اور رحمت اللہ اور شیریں کابل منتقل ہوگئے اور میاں بیوی کی طرح رہنے لگے۔

پولیس نے شیریں کے قبضے سے کثیر تعداد میں زیورات اور خاص طرح کے خوبصورت جوتے برآمد کیے ہیں۔ پولیس نے ان تک رسائی تاجر حاجی محمد انور کے قتل کے نتیجے میں حاصل کی۔

ان لوگوں نے حاجی انور کو جائیداد کی خریداری کے لیے بلایا تھا لیکن انور نے راستے میں آتے ہوئے اپنے ایک رشتےدار سے موبائل پر بات کی اور اس گفتگو کے دوران اسے بتایا کے وہ کہاں جا رہا ہے دو دن بعد جب اس کی برہنہ لاش ملی تو پولیس شیریں خاندان کے گھر تک پہنچ گئی جہاں اسے حاجی انور کے کپڑے اور جوتے بھی مل گئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد