کلیمنتینا:’رہائی متوقع ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اطالوی امدادی کارکن کلیمنتینا کنتونی کو جلد ہی اغواکاروں سے رہا کرا لیا جائے گا۔ افغانستان کے مسلح دستوں نے کابل اور اس کے اطراف میں اضافی تلاشی چوکیاں قائم کر دی ہیں اور مشکوک مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ایک اعلی پولیس افسر شیر آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے تمام داخلی راستوں پرگاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ اس دوارن وزارت داخلہ کے اہلکاروں نے امید ظاہر کی ہے کہ کینتونی کو جلد ہی رہا کرا لیا جائے گا۔ ایک اہلکار نے مزید بتایا کہ پولیس اور خفیہ سروس کے افسران اس وقت کاروائی میں مصروف ہیں۔ ایک اغواکار نےایک بین الاقوامی ریڈیو کو دیےگئےانٹرویومیں دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے منگل کی رات تک ان کی شرائط تسلیم نہ کیں تو وہ مغویہ کو قتل کر دیں گے۔ اغواکاروں کا مطالبہ ہے کہ ملک میں شراب کی درامد پر پابندی لگائی جائے اور اسکولوں کی جگہ مدرسے قائم کئے جائیں۔ وہ یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ نوجوانوں سے متعلق ایک ریڈیو پروگرام بند کیا جائے۔ بتیس سالہ کلیمنتینا کنتونی 2003 سے کابل میں امدادی کام کر رہی ہیں ۔ وہ ایک ایسی تنظیم سے وابستہ ہیں جو تقریبا دس ہزار بیواؤں اور ان کے بچوں کی مدد کر رہی ہے۔ انہیں 16 مئی کو کابل سے اغوا کیا گیا تھا ۔ان کی رہائی کے حق میں سیکڑوں بیواؤں نے کابل میں مظاہرے کئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||