BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 May, 2005, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغویہ اطالوی کارکن سے رابطہ
کلیمینٹینا کینٹونی
کلیمینٹینا کینٹونی تین سال سے کابل میں کام کر رہی تھیں
افغانستان کے حکام کا کہنا ہے کہ کابل میں اغوا ہونے والی اطالوی امدادی کارکن نے افغان افسران سے بات کی ہے اور وہ صحیح سلامت ہیں ۔ انہیں پیر کی رات اغوا کیا گیا تھا۔

افغانستان کی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ اس کے افسران نے کلیمینٹینا کینٹونی سے بات کی ہے وزارتِ داخلہ کے ترجمان لطف اللہ ماشل نے کہا محترمہ کینٹونی پرامن طریقے سے رہا ہو جائیں گی لیکن اس بات پر زور دیا کہ اغوا کاروں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

32 سالہ محترمہ کینٹونی امدادی ایجنسی کیئر انٹرنیشنل کے ساتھ کام کرتی ہیں۔

پولیس کے مطابق کلیمینٹینا کینٹونی کو کچھ مسلح افراد زبردستی ان کی کار سےنکال کر دوسری گاڑی میں اغوا کر کے لے گئے تھے۔

گزشتہ اکتوبرمیں کابل میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے تین غیر ملکی باشندوں کو اغوا کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں بحفاظت رہا کر دیا گیا۔

ترجمان نے کل کی ان خبروں کی تردید کی کہ محترمہ کینٹونی کے اغوا میں جرائم پیشہ لوگوں کا ہاتھ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی سیاسی یا شدت پسند گروپ سے بھی نہیں ہیں انہوں نے اغوا کاروں کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

مسٹر ماشل نے کہا کہ محترمہ کینٹونی غالباً کابل ہی میں ہیں۔

اس سے قبل افغان پولیس نے کہا تھا کہ اس اغوا کے پیچھے جرائم پیشہ گروہ ہیں جو اپنے سرغنہ کو رہا کرانا چاہتے ہیں۔

پولیس کے مطابق ان گروہوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس کابل میں اقوام متحدہ کے تین کارکنوں کا اغوا کیا تھا۔

محترمہ کینٹو نی کے اغوا کے سلسلے میں کی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بین الاقوامی امن فوج نے اغوا کاروں کو پکڑنے میں پولیس کی مدد کے لئے کابل میں چوکیاں قائم کی ہیں۔

کلیمینٹینا کینٹونی تین سال سے کابل میں کام کر رہی تھیں وہ ایک پراجیکٹ کے تحت جنگ سے تباہ ہزاروں بیواؤں کو خوراک اور مالی امداد مہیا کرانے کا کام کر رہی تھیں۔

ایک بیوہ شیریں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میرے لئے کینٹونی میری بہن اور ماں کی طرح ہے میرے بچے یتیم ہیں اور وہ ہمیں دو وقت کی روٹی دیتی تھی‘۔

کیئر انٹرنیشنل افغانستان میں کام کرنے والے بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔

برسلز سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں ادارے نے اس واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کی اپیل کی ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اغوا کی یہ واردات ستمبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل شدت پسندوں اور صدر حامد کرزئی کے مخالفین کی جانب سے ملک میں عدم استحکام پھیلانے کی کوششوں کا ایک حصہ بھی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد