اغوا ہونے والی یرغمالیوں کا وڈیو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عربی ٹیلی وژن چینل الجزیرہ نے افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے عملے کے تین ارکان کا وڈیو دکھایا ہے جنہیں جمعرات کے روز یرغمال بنایا گیا تھا۔ وڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں ارکان کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ تاہم کابل سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے عمر آفریدی نے اطلاع دی ہے کہ اغوا کاروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات جعمے تک پورے نہ کیے گئے تو یرغمال افراد کو ایک ایک کر کے ہلاک کر دیا جائے گا۔ ٹیلی وژن پر ایک اغوا کار نے جن کا تعلق جیشِ مسلمین نامی تنظیم سے بتایا جاتا ہے اپنے مطالبات دہرائے اور کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ جن قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ہوا ہے ان میں کچھ خلیج گوانتا نامو میں جبکہ دوسرے کابل کی جیلوں میں ہیں۔ یرغمال بنائے جانے والوں میں ایک کوسوو کا البانوی باشندہ ہے، ایک خاتون جس کی شہریت برطانوی اور آئرش ہے اور ایک فلپائن کا سفارت کار ہے۔ یہ افراد افغانسان میں حالیہ صدرارتی انتخابات کے سلسلے میں وہاں گئے ہوئے تھے۔ ادھر کابل میں اقوامِ متحدہ نے اپیل کی ہے کہ یرغمال افراد کو رہا کر دیا جائے کیونکہ ان کو طبی امداد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اغوا کاروں نے جنہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیں واپس چلی جائیں، ہفتے کو ایک یرغمال کے کریڈٹ کارڈ کا نمبر بھی جاری کیا تھا۔ سرکاری اہلکاروں نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ کریڈٹ کارڈ کا نمبر ظاہر کرتا ہے کہ وہ یرغمال ہونے والوں میں سے ایک کا ہے۔ اغواکاروں کے گروپ نے بارہا یہ کہا ہے کہ وہ ان یرغمالیوں کو قتل کر دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||