افغانستان میں بےگھر بچوں کے لیے کوشاں بین الاقوامی سطح پر معروف امدادی تنظیم ’ آشیانہ‘ انیس سو نوے کی دہائی میں افغانستان میں ہونے والی جنگوں اور طالبان کے دورِ اقتدار سے گزرنے کے بعد اب بھی سرگرمِ عمل ہے۔ تاہم کابل میں جنگ کے بعد آزاد معیشت کا رجحان آشیانہ کے لیے راکٹوں اور بموں سے زیادہ بڑا دشمن دکھائی دینے لگا ہے۔ آشیانہ تقریباً دس ہزار بےگھر بچوں کو خوراک، تعلیم اور پناہ فراہم کر رہا ہے لیکن کابل میں قائم اس تنظیم کا مرکز بند کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ راکٹ حملے نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے کرائے اور زمین کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے۔ آشیانہ کا مرکز انیس سو ستانوے سے جس جگہ قائم ہے اسے جگہ کے مالک نے اس پلاٹ کو ایک بین الاقوامی کمپنی کو فروخت کر دیا ہے جہاں اب ایک فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کیا جائے گا۔ کابل میں گھروں کی خریدی و فروخت کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے باعث املاک کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئی ہیں جتنی مغربی ممالک میں املاک کی ہوتی ہیں۔ آشیانہ کے پلاٹ کا رقبہ تین ایکڑ ہے اور یہ حکومتی وزارتوں کے قریب واقعہ ہے اور اطلاعات کے مطابق اس کی قیمت تقریباً پچاس لاکھ ڈالر ہے۔ |