مدرسوں کی کوریج غیر اسلامی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دینی مدرسوں نے اتوار کو اسلام آباد میں ایک کنونشن منعقد کیا جس کا بنیادی مقصد مدرسوں کے بارے میں مغرب اور خود پاکستانی حکومت کے ذہنوں میں پائے جانے والے خدشات اور منفی تاثرات کو دور کرنا تھا۔ اس کنونشن میں اعلی حکومتی عہدیدار اور غیر ملکی سفیروں نے بھی شرکت کی۔ امریکہ میں نائن الیون کے دہشت گردی کے واقعے کے بعد سے پاکستان کے مدرسوں کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ میں مختلف رپورٹیں شائع ہوتی رہی ہیں جن میں الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ ان دینی درسگاہوں میں عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے۔ تاہم آج کے کنونشن میں حکومتی عہدیداروں اور علماء کے نمائندوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ان مدرسوں میں عسکری تربیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بیس ہزار سے زائد مدرسوں میں دس لاکھ طالبعلم دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اس کنونشن کے بارے میں اتحاد بین المدارس کے سینیئر عہدیدار مولانا حنیف جالندھری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کنونشن کا بنیادی مقصد مغرب میں مدارس اور ان میں رائج نظام تعلیم کے بارے میں غلط تاثر دور کرنا ہے۔ پھر بھی ایسی غلط فہمیاں کیوں قائم ہیں اس بات کا اندازہ اسی وقت ہو گیا جب اس کنونشن کے عہدیداران نے اس کنونشن کی ٹی وی کوریج اور تصاویر کھینچنے کو غیر اسلامی قرار دے کر الیکٹرانک میڈیا اور فوٹوگرافروں کو اس کنونشن میں نہیں بلایا۔ اس پر کنونشن میں موجود مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہااس کنونشن کے عہدیداران کو چاہئے تھا کہ وہ اس کنونشن کی ٹی وی کوریج کی اجازت دیتے تاکہ دنیا کو ان کے موقف کے بارے میں پتہ چلتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور سابق وزیر داخلہ انہوں نے ملک بھر کے مدارس کا سروے کروایا تھا جس میں یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ ملک میں ایک بھی مدرسہ ایسا نہیں ہے جہاں عسکری تربیت دی جاتی ہو۔تاہم انہوں نے کہا کہ علمائے دین کو سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔ اس موقع پر جمیعت علام اسلام سمیع گروپ کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ امریکہ اور مغرب پاکستان کے مدرسوں میں رائج نظام تعلیم کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم وفاقی وزیر برائے وزیر مذہبی امور اعجازالحق نے علما کو یقین دلایا کہ حکومت مدارس کے نظام تعلیم میں کو ئی تبدیلی نہیں لا رہی اور نہ ہی وہ مدارس کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی چاہتی ہے۔ اعجاز الحق نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سے مدارس کو مرکزیت حاصل ہو گئی ہے اور ان کے بارے میں اندرون خانہ اور بیرون خانہ ایک رائے قائم کی گئی ہے جس کو تبدیل کرنے کے لیے علماء کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ یہ تبدیلی جنگ کے ساتھ چاہتے ہیں یا بات چیت کے ساتھ۔ اس کنونشن سے حکومت اور مدارس کے درمیان جہاں اختلافات سامنے لائے گئے ہیں وہاں پہلی دفعہ کھلے عام دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے تحفظات کے بارے میں بات کی ہے۔ اس کنونشن سے یہ اختلافات تو شائد فوری طور پر حل نہ ہوں مگر اس طرح کے کنونشن یقینا دونوں جانب سے بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||