BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 December, 2004, 17:18 GMT 22:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقوں کے مستقبل پر سیمینار

قبائلی علاقہ
پشاور یونیورسٹی میں قبائلی علاقہ جات پر سیمینار میں شریک مقررین
ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ماہرین، دانشور اور موجودہ اور سابق سرکاری اہلکار قبائلی علاقہ جات کے مستقبل کے بارے میں سوچ بچار کے لئے پشاور میں اکھٹے ہوئے ہیں۔ یہ موقعہ انہیں پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سینٹر نے آج سے شروع ہونے والے دو روزہ سیمینار کی شکل میں فراہم کیا ہے۔

قبائلی علاقوں کی حالت زار اور مستقبل، پاکستان میں حکمرانوں سے لے کر دانشوروں، ماہرین اور سیاست کے طلبہ تک کے لئے ہمیشہ ایک دلچسپ موضوع رہا ہے۔

اس بارے میں اکثر بحث مباحثے ہوتے رہتے ہیں لیکن پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈ ی سینٹر کی جانب سے یہ سیمینار ایک ایسے وقت منعقد کیا جا رہا ہے جب القاعدہ اور طالبان کی وجہ سے تمام دنیا کی نظریں اس علاقے پر مرکوز ہیں۔ ایسے وقت میں اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمت حیات خان نے بتایا کہ اس کا ایک مقصد وہ وجوہات جاننے کی کوشش کرنا بھی ہے کہ آخر ستاون برسوں کے بعد بھی ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’کیوں اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود برطانوی نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جا سکا‘۔

اس کے علاوہ سیمینار میں ہمسایہ ملک افغانستان میں رونما ہونے والے واقعات کے اس علاقے پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سیمینار کی سفارشات بعد میں ایک کتابی شکل میں شائع کرکے حکومت کو پیش کر دی جائیں گی۔

اپنے خطاب میں پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ممتاز گل نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے بارے میں بہت کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک مثال پولیٹیکل ایجنٹس کے دفاتر کا قبائلی علاقوں کی بجائے پشاور، ہنگو اور ٹانک میں ہونا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ’قبائلیوں کو آپ آج بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے چل کر آپ کے پاس آئیں نہ کہ آپ ان کی مشکلات ان کے دروازے پر حل کریں‘۔

پیپلز پارٹی کے سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے قبائلی علاقوں کو ملک کے پانچویں صوبے کا درجہ دینے کی مخالفت کی البتہ کہا کہ اسے صوبہ سرحد کا حصہ بننا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس علاقے کو صوبہ سرحد کا حصہ بنانے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا جس کے لئے صوبائی اسمبلی میں بیس نشستیں مختص کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔ لیکن ان کے بقول بین الاقوامی سیاست اور نوکرشاہی کی وجہ سے یہ عمل التوا کا شکار ہوگیا۔

پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی ارباب عارف نے قبائلی علاقوں میں رائج متنازعہ ایف سی آر قانون پر مقالہ پڑھا اور اس کا دفاع کیا۔ ان کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ شاید اس سے بہتر قانون قبائلی علاقے کے لئے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ لیکن انہوں نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ تعلیم کے آنے کے ساتھ ساتھ اس قانون کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس سے قبل ڈاکٹر منہاج الحسن نے افغانستان کے قبائلی علاقوں پر ہونے والے اثرات کو منشیات، بھاری اسلحہ اور مذہبی انتہا پسندی کی شکل میں کافی وسیع اور دور رس قرار دیا۔

سیمینار کے دوسرے روز توقع ہے کہ افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان بھی وزیرستان کی صورتحال پر بات کریں گے۔

سیمینار کی ایک اور اہم بات اس میں بڑی تعداد میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کی شرکت ہے۔ قبائلی عمائیدین بھی بڑی تعداد میں اس میں شریک ہوئے اور ایک موقعہ پر ایک مقرر کے اعداوشمار سے متفق نہ ہونے پر خاموشی سے سب نے واک آوٹ بھی کیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد