’جہاد کی نئی تشریح ضروری ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں دہشت گردی اور عالم اسلام کے موضوع پر ایک سیمینار میں ماہرین نے جہاد کے تصور کی موجودہ دور میں تشریح نو کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ سیمینار دنیا کےموجودہ حالات کے تناظر میں اسلام اور دہشت گردی سے متعلق جاری بحث کی ایک کڑی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقاتِ عامہ اور قبائلی علاقوں کے سیکریٹریٹ میں میڈیا سیل کے اشتراک سے اس سیمینار میں اسلامی سکالرز اور تعلیمی ماہرین نے مقالے پڑھے۔ سیمینار کے شرکاء کی زیادہ تر تعداد یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ اور طالبات کی تھی۔ پشاور یونیورسٹی میں اسلامک اینڈ اورینٹل سٹڈی کے ڈین ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں جہاد اور قتال کے تصورات کی تشریح نو کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے متبادل طریقوں کی تلاش کے لیے تھنک ٹینک بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ قبلہ ایاز کا موقف تھا کہ مسلمانوں کو مغربی ممالک میں امن کی تحریکوں کے ساتھ رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے وہاں کی حکومتوں پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ ایک اور معروف اسلامی سکالر محمد فاروق نے دہشت گردی کی ایک متفقہ تشریح تیار کرنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دہشت گردی کی تشریح کچھ اور طریقے سے کرتا ہے جبکہ مسلمان اسے کسی اور نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں غیرعسکری اہداف پر حملوں نے تحریک آزادی کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی محقق رُس مسعود خان نے دہشت گردی حقیقت یا افسانہ کے عنوان پر اپنے مقالے میں کہا کہ دہشت گردی ایک یا دوسری شکل میں کافی عرصے سے موجود ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ آنے والے وقت میں انٹرنیٹ یعنی سائبر یا انفو ٹیررزم سے معاشرے کو سامنا کرنا پڑے گا جس پر ابھی کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ دہشت گردی پاکستان سمیت تمام دنیا کے لئے ایک چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان جہاد کب کا ختم ہوچکا اور اسے کرنے والے جا چکے ہیں۔ لیکن جو لوگ دہشت گردی میں آج ملوث ہیں یہ وہ لوگ تھے جنہیں ان کے ممالک نے جرائم پیشہ قرار دے کر نکال دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||