’شدت پسندی مسترد کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے مغربی ممالک پر زور دیا ہے کہ دنیا کےسیاسی تنازعات منصفانہ طریقے سے اور فوری طور پرحل کرائے جائیں کیونکہ بقول ان کے یہ تنازعات شدت پسندی کے فروغ کا اہم سبب ہیں۔ صدر نے دنیائے اسلام سےکہا ہے کہ وہ انتہا پسندی اور شدت پسندی کو مسترد کریں اور ’معتدل اور روشن خیالی، کے نظریہ کے فروغ کے لئے اقدامات کریں۔ منگل کے روز اسلام آباد میں شروع ہونے والے دو روزہ سیمینار جس کا عنوان ان کا کہنا تھا کہ خود کش بم دھماکے اسلامی دنیا کے لئے باعث تشویش ہیں، جس سے دنیا میں انتہاپسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریموٹ کنٹرول ٹیکنالوجی اور خود کش بمباروں میں اضافے کی وجہ سے دنیا کے امن کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں اور یہ تمام عالم کی ذمہ داری ہے کہ اس چیلینج کا متحد ہو کر سامنا کریں۔ صدر مشرف نے کہا کہ اسلامی دنیا کو بڑے چیلینج درپیش ہیں خاص طور پر گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ اور مغرب میں اسلامی دنیا کے بارے میں یہ رائے قائم ہوئی ہے کہ اسلامی دنیا خطرناک اور ان کی دشمن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں بعض مذموم مقاصد رکھنے والے گروہ انتہا اور شدت پسندی کا تعلق اسلام سے جوڑ رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسلام شدت پسندی کے خلاف ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ ایک جانب بیشتر مسلمان سمجھتے ہیں کہ فلسطین، کشمیراور عراق میں مسلمانوں پر مظالم ہو رہے ہیں اور مغرب نہ صرف مسلمانوں کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتاہے بلکہ جان بوجھ کر اسلام کا تعلق ان کے بقول دہشت گردی سے جوڑنا چاہتا ہے ۔ صدر کا کہنا تھا کہ مسلمان دنیا کی کل آبادی کے پانچویں حصے کے برابرہیں جو تین براعظموں پر پھیلے ہوئے ہیں اور دنیا کے 191 ممالک میں سے 57 ممالک اسلامی ممالک کی تنظیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی کے اعتبار سے اسلامی ممالک سب سے پیچھے ہیں، دنیا کی کل توانائی کے وسائل کا ستر فیصد اور خام مال کی فراہمی کا چالیس فیصد اسلامی ممالک فراہم کرتے ہیں لیکن عالمی تجارت میں ’او آئی سی، کا حصہ چھ سے آٹھ فیصد مشکل سے بنتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 49 کم تر، ترقی یافتہ ممالک میں سے بائیس مسلمان ملک ہیں جو ان کے لئے نہایت ہی افسوسناک بات ہے۔ صدر مشرف نے امریکہ کے ایک روزنامے میں شائع ہونے مضمون میں بھی مسلم نشاۃ ثانیہ پر زور دیتے ہوئے اسلامی دنیا میں تعلیم و ترقی اور سماجی انصاف کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا نے تبدیلیوں کی سمت توجہ نہیں دی اور ہمیشہ اپنے خول میں سمٹ کر رہی جس کی وجہ سے وہ سماجی اور اقتصادی میدان میں پیچھے رہ گئی۔ صدر نے اسلامی ممالک کے دانشوروں اور ماہرین پر زور دیا کہ کہ وہ اکیسویں صدی میں اسلامی دنیا کے چیلینجز اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی طےکرنے کے لئے اس سیمینار میں سفارشات مرتب کی جائیں تاکہ مسلمان امت کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||